اگر والد اپنی وفات سے پہلے اپنی جگہ اپنے بیٹوں کے نام پر انتقال کروا دے تو اس میں والد کی وفات کے بعد بیٹیوں کا حصہ ہوتا ہے -
واضح ہو کہ کوئی چیز محض کسی کے نام کرنے یا ز بانی طورپر کسی کو دیدنے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی، جب تک اسے اس چیز پر مالکانہ قبضہ اور تصرف کا مکمل اختیار نہ دیدیا جائے ، لہذا اگر والد اپنی زندگی میں کوئی جائدادفقط اپنے بیٹوں کے نام کرے، لیکن اس پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ اور تصرفات کا اختیار انہیں نہ دے تو وہ بیٹے اس جائداد کے محض کا غذات میں نام ہونے کی وجہ سے مالک نہیں بنیں گے، بلکہ بدستور مذکور جائداد والد کی ملکیت میں باقی رہےگی جوان کے انتقال کے بعد ورثاء میں شرعی اصول کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہوگی، البتہ اگر والد اپنی صحت والی زندگی میں مذکور جائداد اپنےبیٹوں کے نام کرنے کے ساتھ ساتھ مالکانہ قبضہ اور تصرفات کا بھی مکمل اختیار دیدے تو اس صورت وہ جائداد بیٹوں کی ملکیت شمار ہوگی اور والد کے انتقال کے بعد دیگر ورثاء کا اس میں حصہ نہ ہوگا۔
کما فی الھدایۃ: والقبض لا بد منه لثبوت الملك، وقال مالك: يثبت الملك فيه قبل القبض اعتبارا بالبيع، وعلى هذا الخلاف الصدقة، ولنا قوله: "لا تجوز الهبة إلا مقبوضة" والمراد نفی الملك، لأن الجواز بدونه ثابت، ولأنه عقد تبرع، وفی إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح، الخ ( کتاب الھبۃ، ج 3، ص 222، ط: دار إحیاء التراث العربی )-