السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے،ایک ضروری شرعی مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں ،ہم نے ایک ساتھی سے قسطوں پر موٹر سائیکل خریدا، جس کی کل قیمت 2,50,000 روپے طے ہوئی،ہم نے ابتداءً 50,000 ایڈوانس دیا اور مزید 30,000 قسطوں کی صورت میں ادا کیے (ماہانہ 10,000 روپے کے حساب سے)یعنی اب تک ہم کل80,000 روپے ادا کر چکے ہیں، پھر کچھ مجبوریوں کے باعث ہم نے وہی موٹر سائیکل واپس اسی شخص کو دے دیا جس سے لیا تھا، اب ہم نے اس سے گزارش کی کہ آپ اپنی مناسب کٹوتی فرما لیں، باقی ہماری رقم واپس کر دیں، لیکن وہ شخص کہتا ہےآپ پہلے پوری طے شدہ رقم (یعنی 2.5 لاکھ) ادا کریں، اس کے بعد جو میرا دل کرے گا، میں واپس کروں گا، سوال یہ ہے کہ جب چیز واپس کر دی گئی ہو، اور ادائیگی بھی جزوی ہو چکی ہو، تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ کیا واقعی پوری قیمت ادا کرنا ضروری ہے، یا کٹوتی کے بعد بقایا رقم واپس کرنا لازم ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔
واضح ہو کہ جب دوبندوں کے درمیان کسی چیزکی خرید و فروخت کامعاملہ مکمل ہوجائے ،اورپھر اس کے بعد مشتری یابائع میں سے کوئی ایک پیشمان ہو کر اس معاملہ کو فسخ کرناچاہے، اوردونوں فریق اس پررضامندہوں توشریعت کی اصطلاح میں اسے اقالہ کہتے ہیں اورحدیث مبارکہ میں اقالہ کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے ،لہذاصورت مسئولہ میں بائع ( فروخت کنندہ) کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کہہ دے کہ میں موٹر سائیکل نہیں لیتا، بلکہ مجھے اپنے پیسے طے شدہ وقت پر ادا کر دیے جائیں۔ سائل اس کو موٹر سائیکل کی واپسی اور پھر کٹوتی کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا اور سائل شرعاً اس کا حقدار بھی نہیں ،لیکن اگر سائل بائع کو موٹر سائیکل واپس کرنا چاہے، اوربائع بھی رضامندی سے اقالہ کرتے ہوئے اس معاملہ کو فسخ کرنا چاہے تو ایسی صورت میں مشتری نے جو قسطیں (80،000)بائع کو ادا کی ہیں بائع پر وہ قسطیں پوری کی پوری مشتری کو واپس کرنا لازم ہو گا ، اورقیمت کی واپسی میں کٹوتی کرناجائز نہیں ہوگا ،لہذا بائع کاپوری رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کرنا اور پھر اس میں اپنی مرضی سے کٹوتی کرنا شرعا درست نہیں ،البتہ اگر اس دوران موٹر سائیکل میں کوئی عیب اور نقص پیدا ہو گیا ہو تو اس عیب کے حساب سے بائع کا کٹوتی کرنا شرعا جائز ہے، اس سے زیادہ رقم کا ٹنا شرعا جائز نہ ہو گا۔
کما فی سنن ابن ماجۃ:حدثنا زياد بن يحيى أبو الخطاب قال: حدثنا مالك بن سعيد قال: حدثنا الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أقال مسلما، أقاله الله عثرته يوم القيامة(باب الإقالة، ج: 2، ص: 741، رقم الحدیث: 2199، ط: دار إحياء الكتب العربية)۔
و فی الدر المختار: من شرائطھا إتحاد المجلس و رضا المتعاقدین الخ (باب الاقالۃ ج:5،ص:121،ط:سعید)۔
و فی العنایۃ:وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية الخ (كتاب البيوع، ج:6، ص:257، ط:دار الفکر)۔
و فی الھندیۃ: وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا الخ (کتاب البیوع ، الباب الأول في تعريف البيع ج:3، ص:3،ط: رشیدیة)۔
و فی الھدایۃ: الاقالة جائزۃ فی البیع بمثل الثمن الاوّل فان شرط اکثر منه او اقل فالشرط باطل ویرد مثل الثمن الاول۔ (باب الاقالۃ ج:3،ص:71،)۔
و فی تبيين الحقائق:(وتصح بمثل الثمن الأول وشرط الأكثر أو الأقل بلا تعيب وجنس آخر لغو ولزمه الثمن الأول) وهذا عند أبي حنيفة؛ لأنه لما كانت الإقالة عنده فسخا والفسخ يرد على غير ما يرد عليه العقد كان اشتراط خلاف الثمن الأول باطلا وشرط لعدم جواز اشتراط الأقل عدم التعيب عند المشتري، وأما إذا تعيب عنده فيجوز بالأقل فيجعل الحط بإزاء ما فات بالعيب، ولهذا يشترط أن يكون النقصان بقدر حصة ما فات بالعيب ولا يجوز أن ينقص أكثر منه الخ (ج:4،ص:71،)۔
و فی درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام: فعلى هذا إذا تقايل المتبايعان البيع بعد قبض ثمن المبيع فيجب رد مثل الثمن أو مقداره الذي اتفق عليه حين العقد الخ(البيوع،الفصل الرابع فی اقالة البيع،حكم الاقالۃ، ج:1، ص:172، ط:دار الجيل)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1