ایك مسئلہ میں مفتیانِ كرام سے شرعی رہبری مطلوب ہے۔ ایک شخص کے پانچ بیٹے ہیں۔ باپ کی حیات میں ہی تین بیٹوں نے اپنا کاروبار اور اثاثے باپ سے الگ کر لیے تھے، جبکہ باقی دو بیٹے ابھی الگ ہونے کے مراحل میں تھے (یعنی ان کا کاروبار اور اثاثے ابھی باپ کے ساتھ مشترک تھے)۔ ان تین بیٹوں نے مل کر ایک زمین خریدی، جو ان کی ذاتی ملکیت تھی، اور اس کی خریداری میں باقی دو بھائیوں کا اور والد كا کوئی بنیادی حصہ یا تعاون شامل نہیں تھا۔ تاہم کچھ قانونی پریشانیوں اور تقاضوں کی وجہ سے (جیسے کہ قانونی دستاویزات کی تیاری میں کچھ رکاوٹیں یا سرکاری قواعد کی پابندی کے لیے) ان تین بیٹوں نے زمین کے کاغذات (جیسے رجسٹری یا ملکیت کے دستاویزات) میں ہر حصے کے لیے باقی دو بھائیوں کے نام بھی شامل کروا دیے۔ یہ نام صرف قانونی ضرورت اور سہولت کی وجہ سے لکھوائے گئے تھے، نہ کہ ان کو حقیقی ملکیت دینے کے ارادے سے۔
زمین کی خریداری کے موقع پر، تین بھائیوں میں سے بڑے بھائی نے کچھ قرض بھی لیا تھا، اور اسی بڑے بھائی نے ہی وہ قرض واپس کیا۔ البتہ اس موقع پر باقی دو بھائیوں میں سے ایک نے 7000 روپے دیے تھے، جو شاید سہولت یا مدد کے طور پر دیے گئے تھے، لیکن یہ رقم زمین کی کل قیمت کے مقابلے میں بہت کم تھی اور نہ ہی اسے ملکیت کے بدلے میں شمار کیا گیا تھا۔ باقی دو بھائیوں نے زمین کی خریداری میں مزید کوئی مالی یا عملی حصہ نہیں ڈالا ۔
اس کے بعد زمین کی دیکھ بھال، کاشتکاری، اور تمام انتظامی امور صرف ان تین بھائیوں نے ہی سنبھالے۔ انہوں نے ہی زمین پر محنت کی، فصل اگائی، اور اس سے حاصل ہونے والے منافع یا فائدے کو صرف اپنے درمیان تقسیم کیا۔ باقی دو بھائیوں نے کبھی بھی زمین کی دیکھ بھال میں حصہ نہیں لیا، نہ ہی اس سے کوئی فائدہ حاصل کیا، اور نہ ہی انہوں نے کبھی ملکیت کا دعویٰ کیا۔ یہ معاملہ کئی سالوں سے چلا آ رہا ہے، اور اب تک کوئی تنازعہ نہیں اٹھا، لیکن مستقبل میں ممکنہ مسائل سے بچنے کے لیے شرعی حیثیت واضح کرنا چاہتے ہیں۔
سوالات:
( 1 ) کیا صرف قانونی ضرورت اور سہولت کی وجہ سے زمین کے کاغذات میں نام لکھوا دینے سے شرعی اعتبار سے ان دو بھائیوں کی حقیقی ملکیت ثابت ہو جاتی ہے؟ یعنی کیا شرعاً یہ نام درج کروانا ان کو زمین کا مالک بنا دیتا ہے، حالانکہ ان کا کوئی حقیقی تعاون یا ارادہ ملکیت کا نہیں تھا، اور صرف ایک بھائی کی طرف سے 7000 روپے کی مدد دی گئی تھی؟
( 2 )اس معاملے میں بڑے بھائی کی طرف سے لیے گئے قرض کی واپسی اور ایک بھائی کی طرف سے دیے گئے 7000 روپے کا کیا شرعی حکم ہے؟ کیا یہ رقم ملکیت کے لیے کافی ہے، یا یہ صرف قرض مدد شمار ہوگی؟
( 3 ) اگر شرعاً یہ نام صرف قانونی دستاویز کا حصہ ہے اور حقیقی ملکیت نہیں دیتا، تو کیا ان تین بھائیوں کو زمین کی مکمل ملکیت حاصل رہے گی، اور وہ اسے اپنے طور پر استعمال، فروخت، یا وراثت میں تقسیم کر سکتے ہیں؟
( 4 ) اگر کوئی تنازعہ پیدا ہو تو شرعی طور پر اس کا حل کیا ہوگا؟ کیا قانونی دستاویزات کو شرعی ملکیت پر فوقیت دی جائے گی، یا شرعی اصولوں (جیسے نیت، قبضہ، حقیقی تعاون، اور قرض کی نوعیت) کو ترجیح دی جائے گی؟
براہ مہربانی ان سوالات پر قرآن و سنت کی روشنی میں، احادیث اور فقہاء کے اقوال کی بنیاد پر تفصیلی فتویٰ جاری فرماكر شكریہ كا موقع عنایت فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں (بشرط صحتِ سوال) جب مذکور زمین تینوں بھائیوں نے مشترکہ طور پر خریدی ہواور صرف بعض قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے دیگر بھائیوں کو محض کاغذات کی حد تک اس زمین کی ملکیت میں شامل کیا ہو، حقیقی طور پر مالکانہ تصرف و قبضہ نہ دیا ہواور آئندہ بھی اس قسم کا کوئی ارادہ نہ ہوتو اس صورت میں مذکور زمین ان تینوں بھائیوں کی ملکیت شمار ہوگی۔ دیگر بھائیوں کو شرعاً اس زمین پر کسی قسم کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں ۔
جہاں تک بڑے بھائی کی طرف سے لیے جانے والے قرض اور چھوٹے بھائی کی طرف سے شامل کیے جانے والے مبلغ سات ہزار ( 7000 ) روپے کا تعلق ہے تو سوال میں ا س کی تصریح نہیں ہے کہ وہ رقم کیونکر اور کس سے کونسی مد میں لی گئی تھی، تاکہ اس سے متعلق شرعی حکم سے آگاہ کیا جاتا ۔ لہذا اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ ارسال کردیں تو اس وضاحت کے بعد اس سے متعلق حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔ ان شاء اللہ ۔
کما فی الدر المختار: (و تتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (و لو الموھوب شاغلاً لملک الواھب لا مشغولاً بہ) و الأصل أن الموھوب إن مشغولاً بملک الواھب منع تماماً إلخ
وفی رد المحتار تحت (قولہ بالقبض) فیشترط القبض قبل الموت و لو کانت فی مرض الموت للأجنبی کما سبق فی کتاب الوقف کذا فی الھامش(قولہ بالقبض الکامل) و کل الموھوب لہ رجلین بقبض الدار فقبضاھا جاز خانیۃ إلخ(کتاب الھبۃ، ج 5، ص690، ط: سعید)-
وفی مجمع الأنھر: لا تجوز الھبۃ إلا مقبوضۃ اھ (کتاب الھبۃ، ج: 3، ص: 491، ناشر: مکتبۃ غفاریۃ)-
وفی الدر المختار أیضاً: بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة اھ
وفی رد المحتار تحت (قولہ بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة، ولو قال: أغرس باسم ابني، فالأمر متردد، وهو إلى الصحة أقرب اھ وفي المتن من الخانية بعد هذا قال: جعلته لابني فلان، يكون هبة؛ لأن الجعل عبارة عن التمليك، وإن قال: أغرس باسم ابني، لا يكون هبة، وإن قال: جعلته باسم ابني، يكون هبة؛ لأن الناس يريدون به التمليك والهبة اهـ. وفيه مخالفة لما في الخلاصة كما لا يخفى اهـ.قال الرملي: أقول: ما في الخانية أقرب لعرف الناس تأمل اهـ.وهنا تكملة لهذه لكن أظن أنها مضروب عليها لفهمها مما مر وهي وظاهره أنه أقره على المخالفة وفيه أن ما في الخانية فيه لفظ الجعل وهو مراد به التمليك بخلاف ما في الخلاصة اهـ تأمل، نعم عرف الناس التمليك مطلقا تأمل (قوله: ليس بهبة) بقي ما لو قال: ملكتك هذا الثوب مثلا، فإن قامت قرينة على الهبة صحت، وإلا فلا لأن التمليك أعم منها لصدقه على البيع والوصية والإجارة وغيرها وانظر ما كتبناه في آخر هبة الحامدية وفي الكازروني: أنها هبة. اھ(کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: 689، ناشر: سعید)-
وفی شرح المجلۃ: المادۃ : 837 – (تنعقد الھبۃ بالایجاب و القبول و تتم بالقبض) صریح ھذہ المادۃ أن القبول رکن أیضاً کالإیجاب، و ھو المذکور فی الھدایۃ و الغرر و الملتقی والتنویر وغیرھا(إلی قولہ) واعلم أن المراد بالقبض الذی تتم بہ الھبۃ ھو القبض الکامل وھو فی المنقول ما یناسبہ وفی العقار ما یناسبہ ، فقبض مفتاح الدار قبض لھا إلخ (الفصل الأول فی بیان مسائل المتعلقۃ برکن الھبۃ و قبضھا، ج 3، ص 344، ط:مکتبۃ اسلامیۃ)-
وفی شرح المجلۃ أیضاً: تنعقد الھبۃ بالأیجاب والقبول، و تتم بالقبض الکامل لأنھا من التبرعات والتبرع لا تتم إلا بالقبض اھ(رقم المادۃ: ج: 1، ص: 462، ناشر:حنفیۃ)-