میں نے اپنا گھر بیچ کر اپنے اکلوتے بیٹے اور غیر شادی شدہ بیٹی کو 18 لاکھ روپے دے دیے تھے ،بیٹے اور بیٹی نے ان پیسوں کو لے کر اپنے لیے گھر بنوا لیا ہے،اب اور جو بہنیں ہیں ان کا کوئی شرعی حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ اس میں جس طرح تصرف کرنا چاہے کر سکتا ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ نےاپنا مکان بیچ کر اس کی رقم اپنے ایک بیٹے ،اور ایک بیٹی کو دے کرانہیں اس کا مالک بنا دیا تھا،اور یہ مکان سائلہ کی ذاتی ملکیت تھا ، مرحوم شوہر کا ترکہ کا نہ تھا ،تو اس صورت میں سائلہ کا بیٹا اور بیٹی خرید کردہ مکان کے مالک بن چکے ہیں ،اب ان کے دوسرے بہن بھائیوں اس میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی وہ اس میں حصہ داری کا مطالبہ کر سکتے ہیں، لیکن سائلہ کی ملکیت میں اگر ایک ہی مذکور مکان تھا ،تو اسے چاہیئے تھا کہ دیگر اولاد کو بھی کچھ نہ کچھ دے دیتی کہ سب ہی ان کی اولاد ہیں ،اور یہ زیادہ بہتر اور افضل طریقہ تھا ۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن النعمان بن بشیر أن أباہ أتی بہ إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال إنی نحلت ھذا غلاماً، فقال أ کل ولدک نحلت مثلہ ؟ قال لا قال فارجعہ و فی روایۃ : قال فاتقوا اللہ و اعدلوا بین أولادکم (باب العطایا ج: 1، ص: 261 ، ط: قدیمی )۔
و فی الدر المختار: متی وقف حال صحتہ و قال علی الفریضۃ الشرعیۃقسم علی ذکورھم و إناثھم بالسویۃ ھو المختار المنقول عن الأخیار کما حققہ مفتی دمشق یحیی ابن المنقار فی الرسالۃ المرضیۃ علی الفریضۃ الشرعیۃ الخ
و فی الشامیۃ: تحت ( قولہ کما حققہ مفتی دمشق الخ ) اقول حاصل ما ذکر من الرسالۃ المذکورۃ أنہ ورد فی الحدیث أنہ صلی اللہ علیہ و سلم قال ”سووا بین أولادکم فی العطیۃ و لو کنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء علی الرجال “ رواہ سعید فی سننہ و فی صحیح مسلم من حدیث نعمان بن بشیر ”إتقوا اللہ و اعدلوا فی أولادکم “ فالعدل من حقوق الأولاد فی العطایا و الوقف عطیۃ فیسوی بین الذکر و الأنثی لأنھم فسروا العدل فی الأولاد بالتسویۃ فی العطایا حال الصحۃ و فی الخانیۃ و لو وھب شیئا لأولادہ فی الصحۃ و أراد التفضیل البعض علی البعض روی عن أبی حنیفۃ لا بأس بہ إذا کان التفضیل لزیادۃ فضل الدین و إن کانوا سواء یکرہ و روی المعلی عن أبی یوسف أنہ لا بأس بہ إذا لم یقصد بہ الأضرار و إلا سوی بینھم و علیہ الفتوی و قال محمد و یعطی للذکر ضعف الأنثی و فی التاترخانیۃ معزیا إلی تتمۃ الفتاوی قال ذکر فی الإستحسان فی کتاب الوقف و ینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی العطایا و العدل فی ذلک التسویۃ بینھم فی قول أبی یوسف و قد أخذ أبو یوسف حکم وجوب التسویۃ من الحدیث و تبعہ أعیان المجتھدین و أوجبوا التسویۃ بینھم و قالوا یکون آثماً فی التخصیص و التٖفضیل الخ ( کتاب الوقف ج: 4، ص: 444، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: لیس لہ حق الرجوع بعد التسلیم فی ذی الرحم المحرم الخ (الباب الخامس الرجوع فی الھبۃ ج 4 ، ص 386 ، ط ماجدیۃ )۔
و فی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالإیجاب و القبول و تتم بالقبض الخ ( الباب الأول ج 3، ص 344، ط مکتبۃ اسلامیۃ کوئٹہ )۔
و فیھا أیضا: کل یتصرف فی ملکہ کیف یشاء لکن إذا تعلق حق الغیر بہ یمنع المالک من تصرفہ علی وجہ الإستقلال الخ ( الباب الثالث، الفصل الأول ج:4 ، ص:132 ، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الإسلامیۃ )۔