تفویض طلاق

تفویض طلاق کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
86276
| تاریخ :
2025-09-18
معاملات / احکام طلاق / تفویض طلاق

تفویض طلاق کی ایک صورت کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم مفتی صاحب!ایک شخص نے عقدِ نکاح کے بعد اپنی بیوی کو مختلف شرائط کے ساتھ طلاق کا اختیار دے دیا، جن میں سے ایک شرط یہ تھی اگر مرد نامرد ہو۔ بعد ازاں اس نے اپنی بیوی کے ساتھ چار راتیں ہمبستری کرنے کی کوشش کی (پھر اس کی بیوی اس کے ساتھ نہ رہی)۔ لیکن ان چند دنوں میں سے کسی دن بھی وہ بیوی سے مباشرت نہ کرسکا، کیونکہ اس کا عضوِ تناسل اتنی مقدار میں سخت و قائم نہ ہوسکا کہ دخول کر پاتاوضاحت یہ ہے کہ اس کی مکمل کیفیت یہ تھی کہ فور پلے کے دوران اس کا عضو مکمل طور پر تناؤ میں آجاتا تھا، لیکن ہمبستری شروع کرنے کے عین وقت ڈھیلا پڑ جاتا، جس کی وجہ سے وہ مباشرت نہ کرسکا۔ البتہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس کے عضو کے کھڑا ہونے کی قوت پہلے سے زیادہ بہتر ہو رہی تھی، لیکن اتنی نہ ہوئی کہ دخول ہوسکے۔۔ ایک تجربہ کار مسلمان جنسی ماہر ڈاکٹر نے اس شخص کے تمام حالات سن کر اور اس کا طبی و جسمانی معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ اس میں جنسی ناتوانی کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ جو کچھ ہوا وہ محض پہلی بار کے تجربے اور نفسیاتی و حالات کی بنیاد پر ایک ردِ عمل ہے، جسے طبّی زبان میں “Situational Performance Anxiety” کہا جاتا ہے (جو گھبراہٹ، ذہنی دباؤ، ضرورت سے زیادہ توقعات اور کارکردگی پر غیر معمولی توجہ وغیرہ کی وجہ سے پیش آتا ہے)۔ یعنی یہ مسئلہ وقتی ہے، جو چند دنوں میں دور ہوجائے گا اور وہ بیوی سے ہمبستری پر قادر ہوجائے گا۔}اس مرحلے پر محترم مفتی صاحب کی خدمت میں سوال یہ ہے۔ کس قسم کی جنسی ناتوانائی کی وجہ سے عورت شوہر سے علیحدگی کا مطالبہ کرسکتی ہے یا طلاق حاصل کرسکتی ہے؟ وقتی ناتوانی کی وجہ سے یا دائمی ناتوانی کی وجہ سے؟۔ شریعت کی نظر میں کیا مذکورہ شخص کو جنسی ناتوان یعنی عنین شمار کیا جائے گا؟ ان چند دنوں کے حالات کی بنیاد پر کیا اس شخص کی بیوی فوراً شوہر کی جنسی ناتوانی کا عذر پیش کرکے اپنے اوپر طلاق نافذ کرسکتی ہے؟ یا شوہر کو ایک سال کی مہلت دینا ہوگی، پھر اگر وہ صحتیاب (جنسی طور پر قادر) نہ ہوا تو تب وہ طلاق حاصل کرسکے گی؟براہ کرم ان امور کا واضح شرعی حل عنایت فرما کر مجھے ہمیشہ کے لئے ممنون و مشکور فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگرسائل کاسوال مبنی برحقیقت ہوکہ بقول ماہرمعالج مذکور شخص میں طبی اعتبار سے کوئی مستقل جنسی کمزوری موجود نہیں، بلکہ یہ کیفیت وقتی نفسیاتی دباؤ (Situational Performance Anxiety) کی وجہ سے ہے، جو قابلِ علاج اورعارضی ہوتی ہےتو ایسی وقتی کیفیت کو" عنّت" میں شمارنہیں کیاجائے گا کہ کیونکہ فقہاءِ کرام کی بیان کردہ تعریف کے مطابق "عنِّین" کاانطباق اس مرد پرہوتاہے جومستقل طورپر بیوی سے جماع پر قدرت نہ رکھتا ہو، اور یہ عجز واقعی اور دائمی نوعیت کا ہو،لیکن اگرقوتِ باہ موجود ہو،عضومیں تناؤ حاصل ہوسکتا ہو،طبی ماہر اس کو قابلِ علاج یا وقتی نفسیاتی کیفیت قرار دیں،تو یہ مرد شرعاً "عنِّین"نہیں کہلائے گاکہ جس کوبنیادبناکر عورت شرطِ طلاق کاحق استعمال کرتے ہوئے فوراًخودپر طلاق کو نافذ کرسکے تاہم اگرمردکی یہ کیفیت وقتی نفسیاتی دباؤکی وجہ سے نہ ہواورماہرمعالج اس کے دائمی ومستقل ہونے کے قائل ہوں تواس صورت میں عوت کواپناحق تفویض طلاق استعمال کرنے کے لیےایک سال انتظارکرنایاشوہر کو مہلت دیناضروری نہیں بلکہ وہ ماہراطباء کی رائے کے مطابق فوراً اس حق کواستعمال کرتے ہوئے خودپرطلاق واقع کرناچاہے تواس کی گنجائش ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الھندیۃ: ھو الذی لایصل إلی النساء مع قیام الآلۃ فان کان یصل إلی الثیب دون الابکار أو إلی بعض النساء دون البعض وذلک لمرض بہ أو لضعف فی خلقہ أو لکبرسنہ أو سحر فھو عنین فی حق من لایصل الیھا کذا فی النھایۃ الخ (الباب الثانی عشر فی العنین، ج: 1، ص: 522، ط: ماجدیہ)۔
وفیھا ایضاً: إذا رفعت المرأۃ زوجھا إلی القاضی وادعت أنہ عنین وطلبت الفرقۃ فان القاضی یسألہ ھل وصل الیھا أو لم یصل فان أقرانہ لم یصل أجلہ سنۃ سواء کانت المرأۃ بکرا أم ثیبا وإن أنکر وادعی الوصول الیھا فان کانت المرأۃ ثیبا فالقول قولہ مع یمینہ أنہ وصل الیھا کذا فی البدائع فان حلف بطل حقھا وان نکل یؤجل سنۃ کذا فی الکافی وان قالت أنا بکر نظر الیھا النساء وامرأہ تجزی والاثنتان أحوط و أوثق فان قلن انھا ثیب فالقول قول الزوج مع یمینہ کذا فی السراج الوھاج فان حلف لاحق لھا وان نکل یؤجلہ سنۃ کذا فی الھدایۃ وان قلن ھی بکر فالقول قولھا من غیر یمین الخ (الباب الثانی عشر فی العنین، ج: 1، ص: 522، ط: ماجدیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86276کی تصدیق کریں
0     293
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا عورت مرد کو طلاق دے سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
  • بیوی کو وکالت کی جازت ملنے پر وہ شوہر سے نکاح ختم کراسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
  • تفویضِ طلاق کے مؤثر اور قابلِ عمل ہونے کی شرائط

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
  • تفویض طلاق کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • عورت کو اگر طلاق کا حق تفویض کیا جائے تو وہ اپنے اوپر کیسے طلاق واقع کرے گی ؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • تفویضِ طلاق کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
  • ایک طلاق کے متعلق حکم

    یونیکوڈ   انگلش   تفویض طلاق 0
  • تفویض طلاق کے متعلق حکم

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • تفویض طلاق کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • آپ کو دیا اور فارغ کردیا کہنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا حق تفویض کرنے سے کیا اسے رجوع کا حق بھی حاصل ہوگا؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • تفویض طلاق کب معتبر ہوتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
Related Topics متعلقه موضوعات