(1)کوئی عورت اپنے شوہرسے یہ کہے کہ اگرتم نے فلاں عورت سے بات کی تو میں تم پر حرام ہوں،کیااس طرح کہنے سے نکاح پر کوئی اثرہوگایا نہیں؟
(2)کیا عورت مرد کو طلاق دے سکتی ہے؟یا اس کے کسی بھی الفاظ سے نکاح ٹوٹ سکتاہے؟
محض عورت کے اس طرح کہنےسے(کہ اگرتم نے فلاں عورت سے بات کی تو میں تم پرحرام ہوں) نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑتا،تاہم شوہر کے لئے کسی بھی نامحرم عورت سے بلاضرورت بات چیت اور بے تکلفی اختیارکرنے کی شرعااجازت نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔اسی طرح عورت کو طلاق دینے کا اختیارنہیں ہوتا،اورنہ ہی اس کے کسی لفظ سے نکاح متاثرہوتاہے،الایہ کہ شوہرتفویض طلاق کے ذریعہ اپنایہ حق بیوی کے سپردکردے اور بیوی اس حق کو استعمال کرکے اپنے اوپرطلاق واقع کردے تو پھربیوی کے طلاق واقع کرنے سے بھی طلاق واقع ہوجائے گی۔
کمافی الدر: ولو قال لآخر: بحق اللہ أو باللہ أن تفعل کذا لا یلزمہ ذلک وإن کان الأولی فعلہ اھ(ج9: ص569)
قال لھا اختاری اوامرک بیدک ینوی تفویض الطلاق لا نھا کنایۃ فلا یعملان بلا نیۃ او طلقی نفسک فلھا ان تطلق فی مجلس علمھسا بہ مشافھۃ اواخبارا( الدرالمختار مع ہامش رد المحتار کتاب الطلاق باب تفویض الطلاق واللہ اعلم (3/315 )