السلام علیکم مفتی صاحب !میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے علاقہ میں طریقت نقشبندی کی ایک خانقاہ کئی سالوں سے موجود ہے، خانقاہ اور اس سے منسلک زمین وقف ہے، اسی زمین کے ساتھ ایک سرکاری ا سکول بھی ہے ،جس کے راستے کے لئے خانقاہ کے ابھی جو متولی ہیں انکو ہم نے کئی بار کہا کہ آپ ہمیں ۴ ۶ فٹ کی ایک گلی دے دیں تا کہ اسکول کا راستہ ہو سکے، لیکن انکا کہنا ہے کہ میں صرف یہاں کا متولی ہوں مجھے یہ اختیار نہیں ہے کہ میں خانقاہ کی زمین کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکوں میرا کام صرف نگہداشت کرنا ہے،اور یہ وقف جائیداد ہے، وقف کی ملکیت خدا کی ہوتی اور جس مقصد کے لئے وقف ہوئی ہوصرف اسی کے لئے استعمال ہو سکتی،اب آپ رہنمائی فرمائیں کیا اس زمین کوجو وقف ہے خانقاہ اور اس کے کام کے لئے، اس میں سے ہم اسکول کے لئے ایک راستہ (شارع عام ) لے سکتے ہیں یا متولی راستہ دینے کا اختیار رکھتے ہیں؟ اسلامی روسے ہماری رہنمائی فرمائیں، ہم پے سرکاری افسران کا کافی دباؤ ہے کہ کسی بھی طریقہ سے اسی زمین سے راستہ نکالو۔
تنقیحات: (1)خانقاہ اگر کئی سالوں سے وقف کی حیثیت سے موجود ہے تو ابھی خانقاہ پر سے راستہ گزارنے کی نوبت کیوں آرہی ہے؟
(2)کیا اسکول کے راستے کیلئے خانقاہ کی زمین کے علاوہ کوئی زمین موجود نہیں؟
(3)اگر متبادل کوئی صورت موجود نہ ہو تو اسکول بناتے وقت کیا اس کے راستے کی طرف دھیان نہیں کیا گیا؟
لہذا سوال کی مکمل وضاحت کرکے سوال دوبارہ ارسال کریں یا مقامی اہل علم کے سامنے معاملے کی مکمل نوعیت واضح کرکے ان سے حکم شرعی معلوم کریں۔
جواب :اسکول کے لیے زمین خانقاہ کے ساتھ منسلک ہمسایہ نے دی ہے عرصہ 20/15 سال قبل سکول فعال تھا اور آبادی نہیں تھی تو ہرطرف سے راستہ استعمال ہوتا تھا جب یہ زمین خانقاہ کے لیے لی گئی تو آگے سے راستہ بند کر دیا گیا تو اسکول کے لئے پچھلا راستہ استعمال ہوتا ہے جو خالی میدان کی حیثیت سے پڑا تھا عرصہ 87 سال سےا سکول غیر فعال تھا اب جب ا سکول فعال کر رہیں ہیں تو پچھلے سارے راستے بند ہو چکے ہیں آبادیاں ہو گئی ہیں ،اب سرکار کو یا تو آبادیوں کے بیچ سے راستہ نکالنا ہو گا جس میں بہت سارے مسائل ہیں ،یا تو خانقاہ کی زمین سے ،جوا سکول کے سامنے ہے، خانقاہ کے متولی کا مؤقف ہے کہ جس نے اسکول کے لئے زمین سرکار کو دی ہے ابھی اسکول سے منسلک ان کی ہی جائیداد ہے تو راستہ بھی اب وہی دے یا جو اسکول کے پیچھے والا راستہ جو پہلے استعمال ہوتا رہا اسکو ہی فعال کیا جائے یا سرکار کوئی اور فیصلہ کرے کہیں اور سے راستہ نکالےوقف میں سے راستہ نکالنا غیر شرعی ہے۔
واضح ہو کہ وقف اشیاء میں واقف کی غرض اور شرائط کا لحاظ رکھنا شرعاً لازم اور ضروری ہوتا ہے ، یعنی واقف نے جو جیز جس مقصد کے لئے وقف کی ہو اس کو اسی مصرف میں لگانا لازم ہوتا ہے ۔لہذا صورتِ مسئولہ میں واقف نے جو زمین خانقاہ کے لیے وقف کر دی ہے اگر وہ زمین اس کی ملکیت تھی اور اس زمین میں پہلے سے آنے جانے کا راستہ مقرر نہیں تھا ، تو اس خانقاہ میں سے اسکول کے لیے راستہ بنانے کی غرض سےوقف زمین میں سے کچھ حصہ الگ کر کے مستقل راستہ بنا لینا غرض ِواقف کے خلاف ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے ، لہذا اسکول کے لیے خانقاہ کی وقف زمین میں سے راستہ نکالنے کے بجائے کوئی متبادل انتظام کرنا چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: ( قولھم شرط الواقف کنص الشارع أی فی المفھوم و الدلالۃ و وجوب العمل بہ فیجب علیہ خدمۃ وظیفۃ أو ترکھا لمن یعمل الخ ( کتاب الوقف، ج: 4، ص: 433، ط: سعید )۔
و فی الشامیۃ: ( علی أنھم صرحوا بأن مراعاۃ غرض الواقفین واجبۃ الخ ( کتاب الوقف ، مطلب مراعاۃ غرض الواقفین واجبۃ ج:4، ص: 445، ط: سعید)۔
و فی الأشباہ و النظائر: ( لأن شرط الواقف یجب إتباعہ لقولھم: شرط الواقف کنص الشارع أی فی وجوب العمل بہ و فی المفھوم و الدلالۃ الخ ( الفن الثانی ج: 2، ص: 106، ط: ادارۃ القرآن کراچی )۔