میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے نکاح سے پہلے کسی لڑکی سے بات چیت کرتے ہوئے طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط (معلّق) کیا ہو، مثلاً یہ کہا ہو کہ "اگر ایسا ہوا تو طلاق، طلاق طلاق"لیکن اب اسے یاد نہیں کہ اس نے کس چیز یا شرط سے طلاق کو معلق کیا تھا ، اور اب وہ اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے، تو ایسی صورت میں وہ کیا کرے۔ایسی صورت میں(1) کیا نکاح کے بعد یہ مشروط یا معلق طلاق مؤثر ہوگی یا نہیں؟(2) اگر شرط یا الفاظ یاد ہی نہ ہوں تو شرعاً اس نکاح کا کیا حکم ہے؟(3) کیا صرف وسوسہ یا شک کی وجہ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ طلاق اس قید اور پابندی اٹھانے کا نام ہے جو نکاح کے ساتھ ثابت ہوا ہو، اس لئے اگر کوئی شخص نکاح سے پہلے منجز یا نکاح کی طرف نسبت کئے بغیر معلق طلاق استعمال کرتا ہے، تو اس سے اس کی آئندہ نکاح میں آنے والی عورت پر طلاق واقع نہیں ہوتی، البتہ اگر نسبت نکاح کی طرف کرے مثلا یوں کہے کہ جس عورت سے نکاح کروں اس کو طلاق، یا میں نکاح کروں تو میری بیوی کو طلاق وغیرہ، تو ایسی صورت میں نکاح کرنے کے بعد اس کی بیوی پر وہ معلق طلاق واقع ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کو کسی شرط کے ساتھ طلاق معلق کرنا یقینی طور پر یاد نہ ہو تو محض شک و شبہ اور دلی وسوسہ سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اس لئے اس سلسلہ میں شکوک و شبہات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
کما فی الصحیح للبخاری : عن ( أبي هريرة ) رضي الله عنه عن النبي قال إن الله تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها ما لم تعمل أو تتكلم قال قتادة إذا طلق في نفسه فليس بشيء ( باب الطلاق فی الاغلاق ولکرہ والسکران،ج 3،ص2399،رقم :5269،ط:بشری)۔
و فی اعلاء السنن: قال النبیﷺ لانذر لابن آدم فیما لایملک،ولا طلاق قبل النکاح
و فی الدر المختار: وركنه لفظ مخصوص الخ
و فی الشامیۃ تحت (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي. وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي الخ ( کتاب الطلاق، ج 3، ص 230،ط:سعید)۔
و فیہ ایضاً: قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس الخ ( باب المرتد، ج 4،ص224،ط: سعید)۔
و فی الھندیة:إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الكافي (الی قولہ) وإذا كان الجزاء فعلا إما فعل مستقبل أو فعل ماض فالجزاء يتعلق بالشرط بدون حرف الفاء ويبتنى على هذا الأصل الخ ( کتاب الطلاق الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق الخ، ج 1، ص 420، ط : ماجدیۃ )۔
وفی الھدایة: " وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح مثل ان یقول : إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق الخ (کتاب الطلاق، باب الایمان فی الطلاق،ج 2، ص 385)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0