میرے والد نے دو گھر بنائے ہیں،ایک وہ جس میں ہم رہتے ہیں، ہمارے والد صاحب ابھی حیات ہیں،وہ چاہتے ہیں کہ ایک گھر بیچ کر چار پلاٹ لے کر چار بیٹوں کے نام کروا دیں تاکہ ہم سب بھائی نکاح کرکے اپنی بیویوں کے ساتھ الگ الگ رہ سکیں اور جو زرعی زمین ہےپنجاب میں، وہ چاہتے ہیں وہ میرے جانے کے بعد سب بہن بھائیوں میں بانٹیں(تقسیم کریں)،کیا ایسا کرنا جائزہے؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے، اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبور کرے، البتہ اگر کوئی شخص بلا جبر و اکراہ محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے، اور یہ تقسیم شرعاً ترکہ کی تقسیم نہیں بلکہ ہبہ ( گفٹ ) کہلاتا ہے پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر رکھے ، کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے ، البتہ کسی کی خدمت گزاری ، محتاجی ، یا دین داری وغیرہ امور کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے مگر بلا وجہ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
لہذا سائل کے والد اگر اپنی مرضی سے مذکور گھر بیچ کر اپنے بیٹوں کو پلاٹ لے کر دینا چاہے تو اس کا انہیں اختیار ہے،اور شرعاً بھی جائز ہے مگر اس میں بھی تمام اولاد ( بیٹوں ، بیٹیوں ) کو برابر رکھنا زیادہ مناسب ہے جبکہ دوسری زمین جس کے بابت والد صاحب نے اپنے وفات کے بعد تقسیم کرنے کا کہا ہے، تو وہ والد کا ترکہ شمار ہو کر تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم کیا جائے گا۔
کما و فی شرح المجلۃ: کل یتصرف فی ملکہ کیف شاء( الی قولہ) لأن کون الشیئ ملکاً لرجل یقتضی ان یکون مطلقاً فی التصرف فیہ کیف شاء الخ ( الفصل الاول فی بیان بعض قواعد فی احکام الاملاک، ج: 4، ص: 132، ط: مکتبۃ اسلامیۃ)۔
و فی البدائع: و ینبغی للرجل أن یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ تعالی "إن اللہ یأمر بالعدل و الإحسان " الایۃ ( الی قولہ) و لان التسویۃ تألیف القلوب و التفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویۃ أولی و لو نحل بعضاً و حرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی ملکہ لا حق لأحد فیہ إلا أنہ لا یکون عدلاً الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 6، ص: 127، ط: سعید )۔
و فی رد المحتار: وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: 696، ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: و منھا أن یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 4، ص: 374، ط: ماجدیۃ )۔