السلام علیکم، میں دبئی میں رہتا ہوں اور کچھ گناہ کے کاموں میں مبتلا تھا، لیکن ایک دن اللہ پاک کے خوف سے میں نے یہ قسم اٹھا لی کہ اگر مستقبل میں دوبارہ یہ کام کروں گا تو میری بیوی کو طلاق اور میرا نکاح ٹوٹ جائے۔ لیکن کچھ دن بعد مجھ سے دوبارہ وہ گناہ ہو گیا ہے، اب میں بہت ٹینشن میں ہوں۔ براہ کرم کوئی ایسا حل بتا دیں کہ میرا نکاح نہ ٹوٹے اور میں قسم کا کفارہ بھی ادا کر دوں۔
صورت مسئولہ ميں سائل اگر شادى شده ہو اور اس نے جب یہ قسم اٹھا لى كہ "اگر مستقبل میں دوبارہ یہ کام کرو ں گا تو میری بیوی کو طلاق اور میرا نکاح ٹوٹ جائے " تو اس سےطلاق مذكور عمل کے پائے جانے کے ساتھ معلق ہو گئی تھی، لہٰذا جب اس نے وہ کام کیا تو تعلیق طلاق کی شرط پائے جانے کی وجہ سے اس کی بیوی پر دو طلاق بائن واقع ہو چكى ہىں، چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا، البتہ باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح ہو سکتا ہے،بشرطىكہ اس سے قبل کوئی طلاق نہ دى ہو۔
كما فی الھدایۃ: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق" وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا. [(1/ 244)]
وفي الشامية: وانظر لم لم يتعين تكرير الإيقاع مع وجود مذاكرة الطلاق فإن الأصل في العطف المغايرة، فكان ينبغي وقوع بائنتين مع الواو وثم، ومفهوم التقييد بعدم النية أنه لو نوى تكرير الإيقاع مع الحروف الثلاثة أو نوى بالبائن الثلاث أنه يقع ما نوىة اهـ [كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:3 ص:278 ط: سعيد)]
وفي الدر المختار: ولو قال: أنت طالق اعتدي أو عطفه بالواو أو الفاء، فإن نوى واحدة فواحدة أو ثنتين وقعتا، وإن لم ينو ففي الواو ثنتان وفي الفاء قيل واحدة وقيل ثنتان اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (فإن نوى واحدة) أي بأن نوى باعتدي في الصور الثلاث الأمر بالعدة بالحيض دون الطلاق فيصدق لظهور الأمر فيه عقب الطلاق كما مر (إلى قوله) (قوله ففي الواو ثنتان) وكذا في صورة عدم العطف أصلا لأنه في الصورتين يكون أمرا مستأنفا وكلاما مبتدأ وهو في حال مذاكرة الطلاق، فيحمل على الطلاق بحر عن المحيط اهـ [كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3 ص:305 ط: سعيد]
وفي الفتاوى الهندية: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها. [كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1 ص:472 ط: رشيدية)]
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0