الـسّــلامُ عـلـیکـمْ ورحـمـۃُ الـلّٰـہِ وبـرکـــاتـُـہ
صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ میرے پردادا کے پاس 75 کنال زمین تھی
اور اس کے دو بیٹے تھے .دونوں بیٹوں کو وہ اپنی زندگی میں
25/25 کنال تقسیم کر کے دے دیتا ہے اور 25 کنال اپنے پاس اپنی ضروریات کیلئے رکھتا ہے ، اور کچھ ہی عرصے بعد ایک بیٹے کی نافرمانی (باپ کا گلا گھونٹنا)کی وجہ سے 25 کنال مزید زمین دوسرے بیٹے (فرمانبردار) کے نام کر دیتا ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ کیا والد یعنی میرے پردادا کا اس طرح تقسیم کرنا درست تھا؟۔
برائے کرم تفصیل سے آگاہ فرمائیں اور یہ بھی ذکر فرمائیں کہ کون سی وہ وجوہ ترجیح ہیں جن کی بنیاد پر اولاد میں سے کسی کو زیادہ حصہ دیا جاسکتا ہے ؟
واضح ہوکہ ہرشخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے ،اس میں تصرف کرسکتاہے، اس پر اپنی زندگی میں اپنا مال جائیداداپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم اور ضروری نہیں، اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہےکہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے، اگر کوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلا کسی جبر واکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال وجائیداد وغیرہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتے ہوں تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے،مگر یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ،جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائل کےپر دادا ایک محتاط اندازے کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے،وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد (بیٹے،بیٹیوں)کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے،تاکہ یہ ہبہ شرعاً بھی تام اور درست ہوسکے،محض کاغذات میں نام کردینا کافی نہیں ہے ،پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاءمیں سب کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہے،کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے،تاہم اگر وہ اولاد میں سے کسی کی خدمت گزاری،محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی بنا ء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا بھی اسے اختیار ہے مگر بلا وجہِ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کیونکہ یہ گناہ کی بات ہے،اب اگر سائل کے پر دادا نے٢٥-٢٥کنال زمین مذکور دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو حد بندی کی تعیین کے ساتھ تقسیم کرکے دے دی ہو اور خود تمام تصرفات سے دست بردار ہو گئے ہوں اور پھر اس کے بعد بقیہ زمین مذکور ایک بیٹے کو اسی طریقے پر دے دی ہو تو اس طریقے پر کارروائی کرنے سے مذکور دونوں بیٹے دی ہوئی زمین کے مالک بن چکے تھےاب پر دادا کے دیگر ورثاء مذکور جائیداد میں حق دار نہیں ہوں گے۔ البتہ اگر پر دادا کی دیگر اولاد موجود ہو اور انہوں نے اُن کو محروم رکھا ہو تو ایسا کرنے سے اپنی اولاد کے درمیان انصاف نہ کرنے کی وجہ سے وہ گناہگار ہوئے ہیں، جس کے لیے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہوں گے۔ البتہ اگر اس کے فقط دو بیٹے ہوں اور ایک بیٹے کو فرمانبرداری کی وجہ سے دوسرے بیٹے کے مقابلے میں کچھ زیادہ دیا ہو تو امید ہے کہ وہ گناہگار بھی نہ ہو۔
كما في صحيح المسلم: عن النعمان بن بشير. قال:تصدق علي أبي ببعض ماله. فقالت أمي عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم. فانطلق أبي إلى النبي صلى الله عليه وسلم ليشهده على صدقتي. فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم (أفعلت بولدك هذا كلهم؟) قال: لا. قال (اتقوا الله واعدلوا في أولادكم). فرجع أبي. فرد تلك الصدقة.( باب كراهة تفضيل بعض الأولاد في الهبة،ج:٢،ص:٨٧٤،مط:البشرى)
وفيه ايضاََ:وعنه قال.أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال (ألك بنون سواه؟) قال: نعم. قال (فكلهم أعطيت مثل هذا؟) قال: لا. قال (فلا أشهد على جور) ( باب كراهة تفضيل بعض الأولاد في الهبة،ج:٢،ص:٨٧٥،مط:البشرى)
و في الدر المختار:وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى.ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.( كتاب الهبة،ج:٥،ص:٦٩٦،مط:سعيد)
وفي بدائع الصنائع: وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى {إن الله يأمر بالعدل والإحسان} [النحل: 90]( فصل في حكم الهبة،ج:٦،ص:١٢٧،مط:سعيد)
و في البحر الرائق:يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط(الى قوله) وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة و لو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير و يحرمه عن الميراث هذا خير من تركه لأن فيه إعانة على المعصية و لو كان ولده فاسقا(هبة الأب لطفلة، ج:٧، ص:٢٨٨، مط: رشيديه)