طلاق معلقہ

تین طلاق کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
87951
| تاریخ :
2025-10-17
معاملات / احکام طلاق / طلاق معلقہ

تین طلاق کی ایک صورت کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، محترم مفتی صاحب! میرا ایک مسئلہ طلاق کے بارے میں ہے، براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔ میں نے اپنی بیوی سے ناراضی کے عالم میں کہا: " اگر تم نے فلاں بات پر رات 12 بجے تک ’نہیں‘ کہا تو طلاق ہو جائے گی۔” بنیادی طور پر جب میں منفی سوچ رہا تھا، لیکن دل سے میں اس لفظ اور لفظ کا استعمال نہیں کرنا چاہتا، جو میں صرف اس لیے استعمال کرتا ہوں کہ میں اپنی بیوی پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہوں کہ میں وہی کروں اور مجھے یقین تھا کہ اب اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے اور اسے میری بات سننى ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ میں اپنی سوچ میں واضح نہیں تھا، میری ایک سوچ صرف دھمکی تھی اور اسے وہی کرنا ہے جو میں چاہتا ہوں اور اگلی بری سوچ یہ تھی کہ اگر وہ میری خواہش کے مطابق نہیں کرے گی تو ایسا ہو جائے گا، یعنی دونوں سوچیں میرے ذہن میں تھیں اور مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں۔ بعد میں میں نے کہا: "میں اپنی بات واپس لیتا ہوں، میں نے جو کہا تھا وہ ختم کرتا ہوں۔” میرا سوال یہ ہے کہ: 1. اگر میری بیوی نے واقعی ”نہیں“ کہا ، تو کیا طلاق واقع ہو گئی؟ 2. اگر میں نے”میں اپنی بات واپس لیتا ہوں“ رات 12 بجے سے پہلے کہا، تو کیا اس سے میری پہلی بات ختم ہو گئی؟ 3.میں پہلے ہی ایک سال میں 2 بار مختلف مواقع پر لفظ طلاق استعمال کر چکا ہوں۔ یعنی ایک دفعہ میں نے کہا كہ "میں نے تمہیں ایک طلاق دی ہے"۔ اگلی بار میں وہ لفظ استعمال کروں گا جو "میں نے آپ کو دوسری طلاق دی ہے"۔ تیسری بار میں نے تیسری طلاق کا لفظ اس چیز کے ساتھ جوڑا، اگر وہ کرے گی تو ہو جائے گا اور اگر ایسا نہیں ہوا تو نہیں ہو گا، لیکن اس وقت میرے دل میں یہ بات واضح تھی کہ اس کی اندر سے دھمکی تھی کہ میں اسے طلاق نہیں دینا چاہتا اور ایک طرف ان کے برے خیالات بھی تھے جو اسے طلاق دے دیتے ہیں۔ 4. اگر ایسی صورت میں طلاق واقع ہو گئی ہو، تو کیا وہ طلاقِ رجعی شمار ہوگی یا بائن؟ 5. اگر یہ تیسری طلاق ہے تو کیا اب ہمیں دوبارہ نکاح حلالہ کے بغیر کرنا ہوگا؟ یا ان کا کوئی طریقہ ہے؟ میری دل کی نیت طلاق دینے کی ہرگز نہیں تھی۔ میں نے صرف اسے ڈرانے اور بات منوانے کے لیے یہ کہا تھا، یعنی محض دھمکی دی تھی۔ اس وقت بھی اور بعد میں بھی میرا ارادہ طلاق دینے کا نہیں تھا۔ کیا اس طرح کے جملے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ اگر شرط (یعنی بیوی کا وہ کام نہ کرنا) پوری ہو جائے، تب بھی کیا طلاق واقع ہوگی؟ ایسے الفاظ جو طلاق کے لیے کنایہ (اشارہ) ہوں، لیکن نیت صرف دھمکی ہو -ان کا شرعی حکم کیا ہے؟ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرما دیں کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ براہ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں تفصیلی جواب عطا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔
يہ سارا رفرينس مجھے كسى صاحب نے بھىجا ہے، ليكن مىں اور مطمئن ہونا چاہتا ہوں. فقہی قاعدہ (فقہ حنفیہ): "الطلاق بالكنایة لا يقع إلا مع النیة" ترجمہ: کنایہ الفاظ سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک طلاق کی نیت نہ ہو۔ (بدائع الصنائع، جلد 3، صفحہ 100) فقہی اصول: وإذا علّق الطلاق بشرط ولم يكن يقصد وقوع الطلاق، بل كان للتهديد أو الحث أو المنع، فإنه لا يقع الطلاق عند عدم تحقق النية. ترجمہ: اگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط پر معلق کرے اور اس کا مقصد صرف دھمکی دینا یا کسی کام پر آمادہ کرنا ہو، اور طلاق کی نیت نہ ہو، تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 283) (البحر الرائق، جلد 4، صفحہ 65) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اثر: عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه قال: إنما الأعمال بالنية، وإنما لامرئ ما نوى. (أثر عمر کی تائید بخاری حدیث 1 سے بھی ہوتی ہے) حضرت عمرؓ نیت کو تمام معاملات کی بنیاد مانتے تھے، حتیٰ کہ طلاق جیسے نازک معاملے میں بھی۔امام محمد بن حسن الشیبانی (فقہ حنفی):"والكنایة لا يقع بها الطلاق إلا بنية"ترجمہ: کنایہ الفاظ سے طلاق اس وقت واقع ہوگی جب نیت ہو۔ (کتاب الأصل، امام محمد، جلد 6، ص 135) امام طحاوی حنفی: "فإن قال ذلك مهدِّدًا ولم يُرِد الطلاق، لم تطلق امرأته" ترجمہ: اگر کسی نے طلاق کے الفاظ دھمکی کے طور پر کہے اور ارادہ طلاق کا نہ تھا، تو بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی۔ (شرح معاني الآثار، امام طحاوی، ج 3، ص 95) فتاویٰ عالمگیری (ہندوستان کی مستند حنفی کتاب): "وإن قال لها: إن لم تفعلي كذا فأنت طالق، ولم ينو الطلاق، لا تطلق" ترجمہ: اگر کسی نے بیوی سے کہا: اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو طلاق، اور اس کی نیت طلاق کی نہ ہو، تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔(الفتاوی الهندية، ج 1، ص 377) البحر الرائق (مشہور حنفی شرح):"والمعلّقة على شرط إن كانت تهديداً أو حثًّا أو زجراً ولم ينو الطلاق، لا يقع." ترجمہ: اگر شرط پر معلق طلاق کسی کو ڈرانے یا روکنے کے لیے ہو، اور نیت طلاق کی نہ ہو، تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ (البحر الرائق، ج 4، ص 65) رد المحتار (علامہ ابن عابدین شامیؒ): "الکنایات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية." (رد المحتار علی الدر المختار، ج 3، ص 283) رد المحتار، فقہ حنفی کی سب سے زیادہ مروج اور تفصیل سے لکھی گئی کتاب ہے — اس میں بار بار یہی اصول بیان ہوا ہے کہ کنایہ الفاظ میں نیت کا اعتبار ہوتا ہے۔ . الموسوعة الفقهیة الكويتية: "إذا تلفظ بلفظ غير صريح، فلا بد من نية الطلاق لوقوعه." (الموسوعة، ج 29، ص 9) تمام فقہی مکاتب (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے مطابق غیر صریح الفاظ میں نیت کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی۔ فتاویٰ ہندیہ یہ کتاب فقہِ حنفی کی مشہور کتاب ہے، جس میں” تعلیقِ الطلاق بكلمات إن أو إذا أو غيرها“باب موجود ہے، جہاں ذکر کیا گیا ہے کہ اگر طلاق کسی شرط پر معلق ہو (“إن” یا “إذا” وغیرہ کے ساتھ)، اور نیت طلاق کی نہ ہو، صرف دھمکی یا روکنے کے مقصد سے ہو، تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ darulifta.dud.edu.in +2 Masaile Sharai (مسائل شرعی) +2 در المختار مع رد المحتار یہ حنفی فتاویٰ اور اصولِ فقہ کی اہم کتاب ہے۔ اس میں ذکر ہے کہ کنایہ متصلہ (الفاظ جن کا واضح مطلب طلاق نہ ہو) سے طلاق واقع نہیں ہوتی جب تک نیت نہ ہو۔Al Mufti Online Banuri Town / جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے سوالات و جوابات بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر “کنایہ الفاظ کے ساتھ طلاق دینے کا حکم” عنوان سے سوال کیا گیا، اور جواب میں فرمایا گیا کہ اگر الفاظ کنایہ ہوں اور نیت طلاق نہ ہو، تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔ Banuri University اسلامQA / IslamQA اور Muftisays وغیرہ آن لائن فقہی سوال و جواب مثال کے طور پر، سوال “Validity of conditional divorce” میں بتایا گیا کہ اگر شک و شبے یا دھمکی مقصد ہو، نیت طلاق کی نہ ہو، تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔IslamQA +1فتاویٰ امجدیہ کراچی کی معروف فقہی کتاب ہے، جس میں “کنایہ کا بیان” والے ابواب ہیں جن میں اسی طرح کے معاملات پر بحث ہے کہ کنایہ الفاظ اور نیت کے اعتبار سے طلاق کیا ہوتی ہے یا نہیں۔ishaateislam.truefatawa.com کنز الدقائق، البحر الرائق، اور دیگر شرح فقہِ حنفی کی کتب غور سے دیکھا جائے تو “کنایہ” کے ابواب میں یہ اصول ہے کہ غیر صریح کنایہ سے طلاق کے وقوع کے لیے نیت ضروری ہے۔ مثلاً: کنز الدقائق میں بابِ کنایات ishaateislam.truefatawa.com البحر الرائق میں متصل اصولِ الفاظِ طلاق و کنایہ پر گفتگو ملتی ہے۔ عباسؓ سے روایت ہے: “کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا: ‘اگر تو گھر سے نکلی تو تجھے طلاق۔’ پھر وہ عورت نکلی۔ ابن عباسؓ سے پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: یہ اس کی نیت پر موقوف ہے؛ اگر اس نے دھمکی دی تھی تو طلاق نہیں، اگر واقعی نیت تھی تو واقع ہو جائے گی۔” (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد 5، صفحہ 35) یہی صورت آپ کے جیسے معاملے میں ہے — دھمکی کے طور پر کہا، نیت نہیں تھی، لہٰذا طلاق واقع نہیں ہوتی 3. غصّے کی حالت میں طلاق — نبی ﷺ کا ارشاد حدیث 2: نبی ﷺ سے روایت ہے: "لا طلاق في إغلاق" ترجمہ: “بندش (یعنی زبردستی، غصہ، یا جب عقل پر قابو نہ ہو) کی حالت میں دی گئی طلاق معتبر نہیں ہوتی۔” (سنن ابی داود: حدیث 2193، ابن ماجہ: حدیث 2046) "إغلاق" کا مطلب ہے وہ حالت جس میں انسان شدید غصّے، جبر یا دباؤ میں ہو، یعنی اس وقت اس کا ارادہ و نیت واضح نہ ہو۔ اس سے فقہاء (خاص طور پر فقہِ حنفی و شافعی) نے استدلال کیا کہ اگر کسی شخص نے غصّے یا دھمکی میں طلاق کہی ہو مگر دل سے نیت نہ ہو، تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔ 4. ایک تاریخی مثال (صحابہ کے زمانے کی): ایک شخص نے بیوی سے کہا: “اگر تم فلاں جگہ گئیں تو طلاق۔” بیوی وہاں چلی گئی۔ اس شخص نے کہا: “میں نے تو محض روکنے کے لیے کہا تھا، نیت طلاق کی نہیں تھی۔” تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: “طلاق نیت پر موقوف ہے۔ اگر نیت طلاق کی نہیں تھی، تو کچھ نہیں ہوا۔” (مصنف عبدالرزاق: جلد 6، صفحہ 394) جزاکم اللہ خیراً Abdul Ghaffar 0301808448

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی صورت میں اس شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اور ايسى صورت مىں نيت اور الفاظ واپس لىنے كا بھى شرعاً كوئى اعتبار نہىں، لہذا صورت مسئولہ مىں سائل نے جب طلاق كو معلق كركے مذكور الفاظ " اگر تم نے فلاں بات پر رات 12 بجے تک ’نہیں‘ کہا تو طلاق ہو جائے گی" کہا تو اس كے بعد اگر سائل كى بىوى نے رات باره بجے تك "نہىں" كہا ہو تو شرط پائى جانے كى وجہ سے طلاق واقع ہوچکی ہے، اور چونکہ مذکور الفاظ طلاق کے باب میں صریح ہیں، لہذا اس میں نیت کی بھی ضرورت نہیں، بلکہ ان الفاظ کے تلفظ کرتے ہی ان الفاظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، نیز سائل اس سے قبل بھی چونکہ دو طلاقیں اپنی بیوی کو دے چکا ہے، جیساکہ سوال سے بھی واضح ہے، تو ایسی صورت میں یہ طلاق اور اس سے قبل کی دو طلاقیں ملاکر كل تىن طلاقىں ہوكر سائل اور اس كى بىوى كے درميان حرمت مغلظہ ثابت ہوچكى ہے، اب رجوع نہىں ہو سكتا اور حلالۂ شرعىہ كے بغير باہم عقد نكاح بھى درست نہىں، اور جہاں تك سوال مىں درج حوالہ جات كا تعلق ہے، تو اصل کتب سے مراجعت کے بعد مذکور حوالہ جات ان میں دستیاب نہ ہو سکے، جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہےکہ یہ حوالہ جات اے آئی سے بنائے گئے من گھڑت وجعلی ہیں، جن کی وجہ سے حکم شرعی سے متعلق مغالطہ پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى: فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ (النحل: 43)
وفي صحيح مسلم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من غش فليس مني.(باب قول النبي صلى الله تعالى عليه وسلم: من غشنا فليس منا، ج: 1، ص: 69، الرقم: 102، ط: دار الطباعة العامرة تركيا)
وفي الدر المختار: (ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى) ويسمى يمينا مجازا وشرط صحته كون الشرط معدوما على خطر الوجود.اهـ (باب التعليق، ج: 3، ص: 341، ط: إيج إيم سعيد)
وفي رد المحتار: تحت (قوله على خطر الوجود) أي مترددا بين أن يكون وأن لا يكون لا مستحيلا ولا متحققا لا محالة لأن الشرط للحمل والمنع وكل منهما لا يتصور فيهما شرح التحرير.اهـ (باب التعليق، ج: 3، ص: 342، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) (إلى قوله) (أو هازلا) لا يقصد حقيقة كلامه (أو سفيها) (إلى قوله) (أو مخطئا) بأن أراد التكلم بغير الطلاق فجرى على لسانه الطلاق.إلخ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 235، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.اهـ (الفصل الثالث في التعليق، ج: 1، ص: 420، ط: مكتبة ماجدية)
وفيها أيضا: ولو قال لها إذا دخلت الدار أو إذا كلمت فلانا أو صليت الظهر أو إذا جاء رأس الشهر فأنت طالق اثنتين، ثم أقرت بالرق، ثم وجد الشرط طلقت اثنتين وملك الزوج رجعتها؛ لأن الرجوع عن التعليق لا يصح فلا يمكنه التدارك.اهـ (الباب السادس عشر في الإقرار بالنكاح والطلاق، ج: 4، ص: 209، ط: مكتبة ماجدية)
وفيه أيضا: (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) (إلى قوله) (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح (واحدة رجعية.إلخ. (باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 249، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: (وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة.اهـ (باب التعليق، ج: 3، ص: 352، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول، وما في المشكلات باطل، أو مؤول كما مر (حتى يطأها غيره.اهـ (باب العدة، ج: 3، ص: 409، ط: إيج إيم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87951کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • طلاق معلق سے بچنے کے طریقے کا سوال اور اس کا جواب

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • شادی سے قبل طلاق معلق کرنے کے بعد طلاق کب واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 1
  • اگر بیوی خط پڑہے تو اسکو طلاق

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • "اگر میں نے فلاں عورت سے شادی کی تو تین طلاق"کے الفاظ کہنے کاکیا حکم ہوگا؟

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • ’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • طلاق ثلاثہ کوماں ،باپ،بہن،بھائیوں سے بات چیت پرمعلق کرنا

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 1
  • ’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • طلاق معلق کرکے تعلیق سے رجوع کرنا

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 1
  • اگر تو گھر سے نکلی تو تو مجھ طلاق , کہنےکا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • بیوی کو ـ تو ں میرے گھر رہی تو تجھے تین طلاق کہنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • تین معلق طلاقوں کے وقوع سے بچنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 1
  • رخصتی سے قبل معلق طلاق کی ایک صورت

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • "اگر میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر گئی تو طلاق سمجھو "کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • "اگر ماں باپ کے گھر گئی تو میری طرف سے فارغ ہو"سے طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • سمجھ لو میں نے تمہیں اپنے نکاح سے نکال دیاہے کہنےکا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • ہمبستری پر معلق تین طلاقوں کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • معلق طلاق کی ایک صورت اور اس میں طلاق سے بچنے کی تدبیر

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 1
  • جن پیسوں پر طلاق معلق کی اسکے علاوہ دوسرے پیسے دکھانے پر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • معلق بالشرط طلاق کی ایک خاص صورت کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • موبائل میں گفتگو کرنے اور ڈرامہ دیکھنے پر طلاق معلق کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • "فارغ سمجھو " کے الفاظ سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • کل ظہر کے بعد عصر تک آجاؤ ورنہ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرکے اس سے رجوع کرنا

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات