میرا سوال مفتیان کرام سے!میرا 1 مکان ہے ،جس کی مالیت تقریباً(86,00,000) چھیاسی لاکھ روپے ہے،میرے چھ بچے ہیں جس میں 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں،ان چھیاسی لاکھ روپے میں بیٹے کا کتنا حصہ بنے گا، اور بیٹی کا حصہ کتنا بنے گا؟ اور ان چھیاسی لاکھ روپے میں میرا کتنا حصّہ ہوگا؟مہربانی فرماکر اسکا فتویٰ عنایت فرما دیں ۔جزاکم اللہ خیراً!
واضح ہوکہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنےتمام مال وجائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح چاہے جائزتصرف کرسکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے در میان مال و جائیداد تقسیم کرنا شرعاًلازم نہیں ،اور نہ ہی کسی بیٹے/بیٹی یا بیوی یا شوہر وغیرہ کواس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے،اور نہ کسی کو یہ حق حاصل ہےکہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے ،البتہ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال و جائیداد تقسیم کرنا چاہے ،تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے، لہذا سائل کے ذمہ بھی اپنی جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کر ناشر عاًلازم اور ضروری نہیں ، البتہ اگر سائل اپنی مرضی سے بلا کسی جبر و اکراہ کے اپنی جائید اور اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتاہو تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے، مگر یہ تقسیم تر کہ نہیں، بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلائےگا، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہےکہ سائل اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے ، وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں) میں برابر تقسیم کر کے ہر فرد کو اسکے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تاکہ یہ ہبہ (گفٹ) شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے، محض کا غذات میں نام کر دینا یا زبانی کلام دینا کافی نہیں، پھر بہتر اور افضل یہ ہےکہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابراور یکساں رکھے، کسی کو کم ،کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اسکی اولاد ہیں،تاہم اگر سائل اولاد میں سے کسی کی خدمت گزاری،محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی بنا ء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیار ہے ،مگر بلا وجہ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے، کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح' وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» و في روايةقال:«فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»اھ (باب العطایا،ط:قدیمی1/261)۔
وفی رد المحتار"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل".اھ (4/444)۔