گورنمنٹ کی سکیم ”اپنا گھر اپنا آشیانہ“ کے تحت قرضہ لے کر گھر بنانا جائز ہے؟ تفصیل : اس سکیم میں سرکار اسلامی بینک کے زریعے 5 فیصد منافع پر قرض دے رہی ہے۔
گورنمنٹ کی ”اپنا گھر اپنا آشیانہ“ اسکیم کے دو حصے ہیں، ایک حصہ روایتی سودی بینکوں کے قرض کی صورت پر مشتمل ہے جس پر باقاعدہ سودی معاہدہ کر کے مخصوص سود ادا کرنا پڑتا ہے، اس صورت میں مذکور اسکیم کا حصہ بننا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اس کا دوسرا متبادل حصہ اسلامی بینکوں کی جانب سے حکومتی منظوری سے جاری ہوا ہے، جس میں ”ہاؤس فنانسنگ“ کے اسلامی طریقے کے مطابق ”شرکتِ متناقصہ“ کی صورت میں اس اسکیم کو متعارف کروایا گیا ہے، لہذا جو بینک اسلامی فنانسنگ کے مذکور طریقہ کار کے مطابق مستند علماءِ کرام کی زیرِ نگرانی اس اسکیم کے مطابق معاملات انجام دے رہا ہو، اس کے ساتھ شامل ہو کر اس اسکیم سے مستفید ہونے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
كما قال اللہ تعالى: واحل الله البيع و حرم الربوا (البقرة: 275)۔
وفي البحر الرائق: ولا يجوز قرض جر نفعا بأن أقرضه دراهم مكسرة بشرط رد صحيحة (الی قولہ) فان قضاه أجود بلا شرط جاز الخ (باب المرابحۃ والتولیۃ ، ج: 6 ، ص: 122 ط: رشیدیۃ)۔
وفي الدر المختار: القرض بالشرط حرام والشرط لغو (إلى قوله) كل قرض جر نفعاً حرام الخ
وفي رد المحتار : تحت : (قوله كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر الخ (فصل فی القرض ، ج: 5 ، ص: 166 ، ط: سعید)۔