1 : کیا ایک سرکاری سکول کے ملازم (چوکیدار ) کے بھائی کا وراثت کی بنیاد پر اس کی نوکری میں حق و حصہ بنتا ہے ؟
2 : اگر نوکری ثالثوں نے صلح سے تقسیم کی ہو تو کیا یہ صلح درست ہے یا باطل ہے ؟
واضح ہو کہ ملازمت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں میراث جاری ہو، بلکہ میراث ان چیزوں میں جاری ہوتی ہے جو مورث کی وفات کے وقت منقولی یا غیر منقولی اشیاء اور جائیداد کی شکل میں اس کی ملکیت میں موجود ہو۔ صورتِ مسئولہ میں سائل کے مرحوم بھائی کی وفات کے بعد ادارے کے ضابطے کے مطابق بیٹا ، بھائی (سائل) یا کوئی اور اس ملازمت کا اہل ہو تو وہ مذکور ملازمت کا حقدار ہوگا، لہذا اس ملازمت سے ملنے والی تنخواہ پر صرف ملازمت کرنے والے کا ہی حق ہوگا، اس میں دیگر ورثاء کا حق نہ ہوگا۔جبکہ ثالثوں نے مذکور نوکری اگر حقِ میراث سے دستبرداری کے عوض صلحاً کسی کے سپرد کی ہو تو شرعاً یہ فیصلہ درست نہیں اور مذکور وارث کا اس صلح کے باوجود میراث میں حصہ شرعی برقرار رہے گا۔
کما فی البدائع الصنائع: لان ارث انما یجری فی المتروک من ملک او حق للمورث علی ما قال علیہ السلام : من ترک مالا او حقاً فھو لورثتہ اھ (کتاب الحدود ، ج: 7 ، ص: 57 ، ط: سعید)ـ
وفی الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیۃ : «قالوا: إذا تم الصلح على الوجه المطلوب دخل بدل الصلح في ملك المدعي، و سقطت دعواه المصالح عنها، فلايقبل منه الادعاء بها ثانيًا، و لايملك المدعى عليه استرداد بدل الصلح الذي دفعه للمدعي.
وجاء في م (1556) من مجلة الأحكام العدلية: إذا تم الصلح فليس لواحد من الطرفين - فقط - الرجوع، و يملك المدعي بالصلح بدله، و لايبقى له حق في الدعوى، و ليس للمدعى عليه - أيضًا - استرداد بدل الصلح. و أصل ذلك: أن الصلح من العقود اللازمة، فلذلك لايملك أحد العاقدين فسخه، أو الرجوع عنه بعد تمامه. أما إذا لم يتم فلا حكم له ولا أثر يترتب عليه». (کتاب الصلح ، باب آثار الصلح، ج: 27 ، ص: 355 ، ط: دارالسلاسل)۔