ہمارے مدرسے میں طلبہ نے آپس میں چندہ کرکے چائے اور دیگر ضروریات کے لیے ایک فنڈ بنایا ہوا ہے۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کسی طالب علم کا کوئی مہمان آ جاتا ہے، تو طلبہ اسی مشترکہ فنڈ سے اس کے لیے چائے یا ناشتہ تیار کر دیتے ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات اساتذہ کرام کی خدمت کے لیے بھی اسی فنڈ سے انتظام کیا جاتا ہے۔ براہِ کرم بتائیں کہ شریعت کی رو سے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اگر تمام شرکاء عاقل و بالغ اور خود مختار ہوں اور اس مشترکہ فنڈ سے کسی مہمان وغیرہ کے اکرام پر بخوشی راضی ہوں اور دوسرے شرکاء سے اس کی صراحت بھی کروالی جائے تو اس صورت میں یہ اکرام بلاشبہ جائز اور درست ہے ورنہ اس سے احتراز اور اپنی جیبِ خاص سے اپنے مہمان وغیرہ کا اکرام لازم ہوگا۔
وفی المشکوٰۃ: (عن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہٖ قال قال رسول اﷲ ﷺ الا لا تظلموا الا لا یحل مال امریٔ الا بطیب نفسٍ منہ، رواہ البیہقی فی شعب الایمان)۔ (کتاب البیوع، باب الغصب والعارية، الفصل الثانی،ج: 1،ص:261، ط: رحمانيه)۔
وفی مرقاة المفاتيح: (" لا تظلموا ") أي: لا يظلم بعضكم بعضا كذا قيل، والأظهر أن معناه: لا تظلموا أنفسكم، وهو يشمل الظلم القاصر والمعتدي (" ألا ") للتنبيه أيضا وكرره تنبيها على أن كلا من الجملتين حكم مستقل ينبغي أن ينبه عليه، وأن الثاني حيث يتعلق به حق العباد أحق بالإشارة إليه، والتخصيص لديه (" لا يحل مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه الخ۔ (كتاب البيوع، باب الغصب والعارية،ج: 5،ص:1974،ط: دارالفکر)۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آپسی معاملات کو بیان کرتے ہوۓ ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کرنا
یونیکوڈ ثواب والے اعمال 0