عبداللہ نے ثمرہ کے ساتھ نکاح کیا زندگی کے چودہ سال بہترین پرسکون گزرے پھر عبداللہ نے ایک اور لڑکی کو پیغام نکاح بھیجا جسکا نام ساجدہ تھا ۔اس بات کا علم پہلی بیوی ثمرہ کو ہو گیا جس پر ثمرہ نے ایک پنچائیت کے سامنے ایک معاہدہ نامہ تحریر کروایا جس پر صاف لفظوں میں یہ درج تھا کہ میری موجودگی میں اگر عبداللہ کا کسی بھی دوسری عورت سے نکاح ہوا تو اُس عورت کو تین طلاقیں ہوں گی جس پر عبداللہ نے دستخط بھی کر لیے اور قبول بھی کر لیا۔
ایک سال گزر جانے کے بعد کچھ ناگزیر حالات کی وجہ سے ثمرہ کو طلاق بائن ہو گئی اور چند دنوں کے بعد دوبارہ نئے حق مہر اور نئے گواہان کے ساتھ نکاح کیا گیا۔
مزید ایک سال گزر جانے کے بعد مذکورہ لڑکی ساجدہ کے ساتھ عبداللہ نکاح کرنا چاہتا ہے سوال یہ ہیکہ جو پہلی بیوی ثمرہ کے ساتھ دو سال قبل معاہدہ نامہ تحریر ہوا تھا طلاق بائن اور پھر تجدید نکاح کے بعد اسکی حیثیت برقرار ہے یا وہ معاہدہ نامہ ساقط ہو چکا ہے اور مذکورہ لڑکی جسکا نام ساجدہ ہے کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے ؟
فقہ حنفی کی رُو سے شرعی حوالہ جات کے ساتھ مدلل رہنمائی فرمائیں
واضح ہو کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی صورت میں جب تک وہ شرط نہ پائی جائے تعلیق ختم نہیں ہوتی بلکہ طلاق بدستور اس شرط کے ساتھ معلق رہتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب عبداللہ نے پنچائیت کے سامنے بیوی (ثمرہ )کی طرف سے لکھی گئی تحریر ” میری موجودگی میں اگر عبداللہ کا کسی بھی دوسری عورت سے نکاح ہوا تو اُس عورت کو تین طلاقیں ہوں گی“ پر بغیر جبر واکراہ کے دستخط کردیے تواس کی وجہ سے تین طلاقین معلق ہوچکی ہیں ، اگرچہ عبد اللہ نے اپنی بیوی (ثمرہ ) کو ایک طلاق بائن دیکر اور عدت کے بعد اس سے دوبارہ نکاح کیا ہو ، پھربھی اس طلاق اور تجدید نکاح کی وجہ سے مذکورہ تعلیق باطل نہیں ہوئی ہے بلکہ بدستور برقرار ہے، لہذا جب بھی عبداللہ ساجدہ سے یا کسی اور سے، پہلی بیوی کی موجودگی میں نکاح کرے گا، تو اسے تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
کمافی الدر: الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق) وكذا كل امرأة ويكفي معنى الشرط إلا في المعينة باسم أو نسب أو إشارة فلو قال: المرأة التي أتزوجها طالق تطلق بتزوجها، الخ۔ (باب التعلیق، ج: 3، ص: 345، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق الخ۔ (کتاب الطلاق، ج: 1، ص: 420، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الدر: اعلم أن التعليق يبطل بزوال الحل لا بزوال الملك فلو علق الثلاث أو ما دونها بدخول الدار ثم نجز الثلاث ثم نكحها بعد التحليل بطل التعليق فلا يقع بدخولها شيء، ولو كان نجز ما دونها لم يبطل فيقع المعلق كله، وأوقع محمد فيه الأول وهي مسألة الهدم الآتية الخ۔ (باب التعلیق، ج: 3، ص: 348، ط: سعید)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0