اس بارے میں مفتی صاحبان کیا فرماتے ہیں میرے ایک کزن زید نے اپنی حیاتی میں ساری زمین دوسرے قبیلہ کے بکر کو 30 سال پہلےبیچی ہوئی ہے، لیکن ابھی معلوم ہوا ہے کہ زید کی کچھ اور زمین میرےدوسرے کزن نجم کے نام پہ ہے، اس زمین کی معلومات سوائے میرے ،زید کے بیٹے اور بکر دونوں کو نہیں ہے۔ ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر ان پوشیدہ زمین کا ذکر زید کے بیٹوں سے کرینگے تو وہ کہہ دیں گے کہ ہمارے والدنے صرف سرکاری ریکارڈ میں جتنی زمین ہے، اس کا سودا کیا ہے، ابھی ظاہر ہونے والی زمین کا نہیں۔ اگر ہم خریدار بکر کو کہہ دیں گے تو وہ کہے گا کہ زید نےمیرے ساتھ پوری زمین کی بات کی تھی، تو یہ ابھی ظاہر ہونے والی زمین بھی ہماری ہے۔ کوئی خاص گواہ بھی نہیں مل رہا۔ابھی ظاہر ہونے والی زمین دونوں میں سے کسی ایک کو بھی معلوم ہو گئی تو پھر بڑے فساد کا خطرہ ہے،اس لئے ہم مفتی صاحبان سے اس مسئلہ پر رہنمائی چاہتے ہیں کہ یہ ظاہر ہونے والی زمین کس کی ہوگی؟ اگر خریدار بکر کی ہے، تو اس نے تو میرے دوسرے کزن نجم کی گئی گنا بڑی زمین اپنے قبضے میں کی ہوئی ہے اور وہ کسی صورت میرے دوسرے کزن نجم کو دینے کو تیار نہیں ہے، تو کیا وہ جونئی ظاہر ہونے والی چھوٹی زمین بکر کے قبضے کی ہوئی بڑی زمین کے بدلے میں دوسرےکزن نجم کو دے سکتے ہیں ۔ اس مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں، شکریہ
واضح ہوکہ بیع (خرید و فروخت) میں مشتری(خریدار) صرف اسی قدرمبیع کاحقداربنتاہےجو عقدِ بیع کے وقت متعین اور فریقین کے علم میں ہو،جس چیزکی بطورمبیع ،بیع میں تعیین نہ ہواورنہ ہی وہ فروخت کنندہ کی نیت میں شامل ہو ، وہ بیع میں داخل نہیں سمجھی جائے گی۔لہذاصورتِ مسؤلہ میں زید نے بکر کو زمین بیچتے وقت جن زمینوں پر باقاعدہ قبضہ دیکر ان کے کاغذات بھی بکر کو حوالے کردیے تھے تو شرعاً وہی زمینیں بکر کی ملکیت شمار ہوں گی ۔ اور اب تیس سال بعد زید کی جو زمین نجم کے نام پر ظاہرہوئی ہے، یہ زمین شرعاً بکر کی ملکیت شمار نہ ہوگی، جب تک شرعی گواہوں سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ وہ زمین بھی اسی بیع کا حصہ تھی۔ جبکہ بکر کا نجم کی زمینوں کو ناحق اپنے قبضے میں لینا شرعاًغصب کے حکم میں داخل ہے ،جس پر حدیث پاک میں سخت وعیدیں وارد ہوئیں ہیں، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ”جو شخص کسی دوسرے کی بالشت بھر زمین ظلماً غصب کرلے تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کے گلے میں پہنایا جائے گا“۔ لہٰذا ان زمینوں کا واپس کرنا بکر پر لازم ہے،تاہم نجم کااپنی غصب شدہ زمین کے بدلے میں زیدکی نئی ظاہرہونے والی زمین کواپنے پاس روکنابھی جائزنہیں، بلکہ اس پرلازم ہے کہ وہ زمین زیدکے ورثاء کےحوالے کرے تاکہ وہ اسے زیدکے ترکہ کے طورپرموجودورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم کرسکیں۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: (من أخذ شبراً من الأرض ظلما؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضین)۔ الحدیث۔ (کتاب البیوع، باب الغصب و العاریۃ، ج 1، ص 254، ط: قدیمی)۔
وفی الشامیۃ: تحت (قوله عن بيوع فتاوى قارىء الھداية) ونصھا: سئل عن شخص اشترى من آخر دارا ببلدا وهما ببلدة أخرى وبين البلدتين مسافة يومين ولم يقبضھا بل خلى البائع بين المشتري والمبيع التخلية الشرعية ليتسلم فھل يصح ذلك وتكون التخلية كالتسليم؟ أجاب: إذا لم تكن الدار بحضرتھما وقال البائع سلمتھا لك وقال المشتري تسلمت لا يكون ذلك قبضا ما لم تكن الدار قريبة منھما بحيث يقدر المشتري على الدخول فيھا والإغلاق، فحينئذ يصير قابضا، و فی مسألتنا ما لم تمض مدة يتمكن من الذهاب إليھا والدخول فيا لم يكن قابضا إلخ۔ (باب فسخ الاجارۃ، ج 6، ص 87، ط:سعید)۔
وفی الفتح القدیر:ولو باع دارا غائبة فقال سلمتھا إليك وقال قبضتھا لم يكن قبضا وإن كانت قريبة كان قبضا، وهى أن تكون بحال يقدر على إغلاقھا وما لا يقدر على إغلاقھا فھى بعيدة۔ وأطلق فى المحيط أن بالتخلية يقع القبض وإن كان المبيع يبعد عنھما۔ وقال الحلوانى: ذكر فى النوادر إذا باع ضيعة وخلى بينھا وبين المشترى إن كان يقرب منھا يصير قابضا أو يبعد لا يصير قابضا، قال: والناس عنه غافلون؛ فإنھم يشترون الضيعة بالسواد ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض إلخ۔ (کتاب البیوع، فصل من باع دارا دخل بناءھا فی البیع،ج 6، ص297، ط: دار الفکر)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1