ہم قسطوں کا کاروبار کرتے ہیں، بعض اوقات ہمارے پاس کسٹمر آتا ہے کہ ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے ،ہم اسے کہتے ہیں کہ ہم پیسوں کا کام نہیں کرتے ،اگر آپ کو کوئی موبائل چاہیے تو وہ ہم آپ کو دے دیتے ہیں، پھر چاہے آپ خود استعمال کریں یا مارکیٹ میں فروخت کرکے ان پیسوں سے اپنی ضرورت پوری کرلیں، وہ آپ کی مرضی ہے، کیا ہمارا یہ معاملہ اس صورت میں جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل قسطوں کی بیع درست ہونے کی شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے قسطوں پر موبائل بیچتاہو تو یہ بیع درست منعقد ہوجائےگی ، اگر چہ مشتری بعد میں اس کو فروخت کرکے اپنی ضرورت پوری کرلے۔جبکہ قسطوں پر خرید وفروخت درج ذیل چار شرطوں کے ساتھ شرعاً بھی جائز ہے، ورنہ نہیں:
(1) مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(2) ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے ۔
(3) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہو نگی ۔
( 4) کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو ۔ چنانچہ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے قسطوں پر خرید وفروخت بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
نیز اس صورت میں اسی کسٹمر سے براہِ راست یا اپنے ہی کسی بندہ کو بیچ میں واسطہ بناکر دوبارہ مذکور موبائل کم قیمت پر خریدنا شرعاً جائز نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کمافی فقہ البیوع: وکما یجوز ضرب الأجل لأداء الثمن دفعۃً واحدۃً ، کذلک یجوز ان یکون اداء الثمن بأقساط، بشرط أن تکون آجل الأقساط ومبالغھا معینۃ عند العقد ، وقد یسمی " البیع بالتقسیط" الخ (المبحث الخامس ج:1 ص: 539 ط: معارف القرآن)۔
وفی الدر المختار: (و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول. صورته: باع شيئا بعشرة ولم يقبض الثمن ثم شراه بخمسة لم يجز وإن رخص السعر للربا....(ولا بد) لعدم الجواز (من اتحاد جنس الثمن) وكون المبيع بحاله (فإن اختلف) جنس الثمن أو تعيب المبيع (جاز مطلقا) كما لو شراه بأزيد أو بعد النقد الخ(کتاب البیوع، ج:6،ص: 432،ط:سعید)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1