محترم مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! میں بیوہ ہوں ، ہماری فیملی کی تفصیل یہ ہے ، میرے شوہر وفات پا چکے ہیں ،میرے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ،بیٹیوں میں سے ایک طلاق یا فتہ ہے ، اور ایک شادی شدہ ہے ،ایک مکان میرے نام پر ہے جو میں نے اپنی شوہر کی دی ہوئی رقم اور اپنے نان و نفقہ کی بچت سے ان کی اجازت سے خریدا تھا ،یہ مکان میرے نام پر رجسٹرڈ ہے ،اس مکان کا کرایہ میرے شوہر گھر کے خرچوں میں استعمال کرتے رہے ،لیکن یہ مکان میں نے اپنی رقم اور ان کی رضا مندی سے خریدا تھا،(2)دو دکانیں میرے بیٹوں کے نام جوائنٹ ( مشترکہ طور پر رجسٹرڈ ہیں ، جو میرے شوہر نے اپنی زندگی میں اپنے ریٹائر منٹ کے پیسوں سے ان کے نام پر خریدی تھیں ، (3)ایک 120 گز کا پلاٹ اور دو منزل مکان میرے شوہر مرحوم کے نام پر تھا ،جس میں ہم ابھی رہائش پذیر ہیں، (4)تین پلاٹس بھی میرے مرحوم شوہر کے نام پر تھے ،(5)ایک گاڑی میرے شوہر مرحوم نے اپنی زندگی میں ایک بیٹے کے نام کر دی تھی ،تین پلاٹس بھی مرحوم شوہر نے اپنی زندگی میں بیٹے کے نام کر دیے تھے ،اب میں اپنی خوشی اور رضا مندی سے اپنے نام پر موجود مکان اپنی دو بیٹیوں کے نام ہبہ ( گفٹ ) کرنا چاہتی ہوں، اس معاملے میں میرے بیٹے اعتراض کر رہے ہیں کہ یہ مکان اصل میں ان کے والد کی جائیداد ہے ،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مکان میں نے اپنے نان و نفقہ کی بچت سے اور شوہر کی اجازت سے اپنے نام کروا دیا تھا ،میں شرعی طور پر آپ کی راہنمائی چاہتی ہوں کہ کیا میں اپنی زندگی میں اپنی مرضی سے یہ مکان اپنی بیٹیوں کو ہبہ کر سکتی ہوں ؟ اور کیا اس پر میرے بیٹوں کا کوئی شرعی حق بنتا ہے یا نہیں ؟
سوال میں مذکور دو دکانیں ، ایک 120 گز کا پلاٹ اور رہائشی دو منزلہ مکان تو یقینی طور پر سائلہ کے مرحوم شوہر کا ترکہ ہے ،جو ان کے مذکور ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گا ،اس کے علاوہ تین پلاٹ اور گاڑی جو مرحوم نے اپنی زندگی میں بیٹے کے نام کر دی تھی ،اگر تو یہ محض کاغذی کاروائی کے طور پر نام کر دیے ہوں ،باضابطہ مالکانہ حقوق و تصرفات کے اختیارات (کہ چاہیں تو بیچ دیں یا کسی کو گفٹ کر دیں ) نہ دیے ہوں ،تو یہ تین پلاٹ اور گاڑی بھی مرحوم کا ترکہ شمار ہو گا ،اور تمام ورثاء اس میں حصہ دار شمار ہوں گے ،جہاں تک سائلہ کے نام پر رجسٹرڈ مکان کا تعلق ہے، تواگر سائلہ کو مرحوم شوہر کی طرف سے بطورِ ملکیت جو رقم دی گئی ہو اس سے ،یا نان نفقہ کی مد میں دی جانے والی رقم سے کچھ رقم بچا کر اس سے سائلہ نے یہ مکان اپنے لیے خریدا ہو ،(جیسا کہ سوال میں مذکور ہے )تو یہ مکان شرعاً بھی سائلہ کی ملکیت شمار ہو گا ،اس میں وہ جس طرح چاہے تصرف کر سکتی ہے ،بیٹوں کو کسی قسم کے اعتراض کا حق حاصل نہیں،اس لیے کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہےکہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے،البتہ اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائلہ اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد (بیٹوں، بیٹیوں) کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہوسکے،محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے، مگربلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے، کہ گناہ کی بات ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: فأرجعه و في رواية: قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم الخ (باب العطایا، ج:1،ص:261ط: قدیمی)
و فی الدر المختار: ( لأن الترکۃ فی الإصطلاح ما ترکہ المیت من الأموال صافیا عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال الخ ( ج: 6، ص 758، ط: سعید )۔
و فیہ أیضا: (و فی الخانیۃ لا بأس بتفضیل بعض الأولاد فی المحبۃ لأنھا عمل اللقلب و کذا فی العطایا إن لم یقصد بہ الأضرار و إن قصدہ سوی بینھم یعطی البنت کاالإبن عند الثانی و علیہ الفتوی الخ (کتاب الھبۃ ج: 5 ، ص: 696 ،ط: سعید)۔
وفی رد المحتار:أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل الخ (كتاب الوقف( 4/ 444) ط: سعید)۔
و فی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالإیجاب و القبول و تتم بالقبض الخ ( الباب الأول ج 3، ص 344، ط مکتبۃ اسلامیۃ کوئٹہ )۔
و فیھا أیضا: کل یتصرف فی ملکہ کیف یشاء لکن إذا تعلق حق الغیر بہ یمنع المالک من تصرفہ علی وجہ الإستقلال الخ ( الباب الثالث، الفصل الأول ج:4 ، ص:132 ، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الإسلامیۃ )۔