والد کا انتقال ہوا تو کسی نے رابطہ نہیں کیا، بس ایک میسج بھیج دیا کہ انتقال ہو گیا ہے، نہ جنازے کا وقت بتایا، نہ کچھ اور۔ میں اکلوتا بیٹا ہوں۔ ہو سکتا ہے وارث سے پوچھے بغیر جنازہ ؟ کیا یہ شرعاً درست ہے؟
اگر میت کا قریبی وارث مثلاً (کلوتا بیٹا) ایسے مقام پر موجود ہو کہ اس کے آنے کا انتظار کرنے سے نماز جنازہ اور تدفین میں غیر معمولی تاخیر کا اندیشہ ہو تو فقہ حنفی کے مطابق اس قریبی وارث کی ولایت ساقط ہو جاتی ہے، اور پھر دور کے وارث یا اہل محلہ کو نماز جنازہ اور تدفین کا حق حاصل ہوتا ہے، لیکن اگر قریبی وارث موجود تھا اور اس کے آنے میں ایسی کوئی تاخیر نہ تھی جس سے نماز جنازہ و تدفین میں غیر ضروری تاخیر لازم آتی، تو پھر اس کی اجازت کے بغیر جلد بازی میں جنازہ اور تدفین کرنا خلاف اولی اور ناپسندیدہ ہے، تاہم نماز جنازہ بہرحال درست ادا ہو جائے گی، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل والد مرحوم کے جنازے اور تدفین میں بروقت پہنچ سکتا تھا، لیکن اس کے باوجود اس کے دیگر اعزه و اقارب نے اس کا انتظار کئے بغیر جنازہ و تدفین کر دی تو ان کا یہ عمل قطعا مناسب نہ تھا جس پر انہیں سائل سے معذرت کرنی چاہیے۔
كما في الفتاوى التاترخانية: إذا كان الأقرب غائبا فالأبعد أولى، فإن قدم الغائب غيره بكتاب كان للأبعد منعه، وحد الغيبة هاهنا أن لا يقدر على القدوم فيدرك الصلاة ولا يقدرون على تأخيرها بقدومة. [(٣/ ٦٢)]
وفي بدائع الصنائع: ولو كان الأقرب غائبا بمكان تفوت الصلاة بحضوره بطلت ولايته وتحولت الولاية إلى الأبعد. ولو قدم الغائب غيره بكتاب كان للأبعد أن يمنعه وله أن يتقدم بنفسه، أو يقدم من شاء؛ لأن ولاية الأقرب قد سقطت لما أن في التوقيف على حضوره ضرر بالميت، والولاية تسقط مع ضرر المولى عليه فتنقل إلى الأبعد. [(1/ 317)]
وفي الدر المختار: (وله) أي للولي ومثله كل من يقدم عليه من باب أولى (الإذن لغيره فيها) لأنه حقه فيملك إبطاله (إلا) أنه (إن كان هناك من يساويه فله) أي لذلك المساوي ولو أصغر سنا (المنع) لمشاركته في الحق، أما البعيد فليس له المنع (فإن صلى غيره) أي الولي (ممن ليس له حق التقديم) على الولي (ولم يتابعه) الولي (أعاد الولي) ولو على قبره إن شاء لأجل حقه لا لإسقاط الفرض؛ ولذا قلنا: ليس لمن صلى عليها أن يعيد مع الولي لأن تكرارها غير مشروع (وإلا) أي وإن صلى من له حق التقدم كقاض أو نائبه أو إمام الحي أو من ليس له حق التقدم وتابعه الولي (لا) يعيد لأنهم أولى بالصلاة منه. [(2/ 223)]