سوال:ایک پرانا مقبرہ ہے، جس میں لڑکے کرکٹ کھیلتے ہیں، اور لوگ مویشی چراتے ہیں، لیکن وہاں پر قبروں کا نام و نشان موجود نہیں ہے،صرف کہیں کہیں پتھر پڑے ہوئے ہیں، علاقہ کے عمر رسیدہ افراد کا کہنا ہے کہ یہاں پر تقریبًا ڈیڑھ سو سال سےکوئی تدفین نہیں ہوئی ہے، اب سوال یہ ہے کہ اس جگہ پر اہلِ علاقہ عیدگاہ اور جنازہ گاہ بنانا چاہتے ہیں ،تو کیا اس جگہ پر عیدگاہ اور جنازہ گاہ بنانا جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ اہلِ علاقہ کو اس جگہ کے علاوہ کوئی دوسری جگہ عیدگاہ اور جنازہ گاہ کے لیے دستیاب نہیں ہے، مذکور جگہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ،اور نہ ہی کسی کا اس پر دعوی ہے،جبکہ مذکور جگہ کے وقف کے بارے میں بھی کوئی معلومات نہیں ، موجودہ دور کے بزرگ حضرات کہ جن کی عمر تقریباً اسی نوے سال ہیں ،وہ بھی اس کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کررہےہیں۔
جاننا چایئے کہ اگر کسی قبرستان کے بارے میں یہ امر غیر واضح ہو کہ آیا وہ باقاعدہ طور پر وقف شدہ ہے یا نہیں؟ تو شرعی اصول کے مطابق جب کسی جگہ پرعام مسلمانوں کی اموات بلا کسی ممانعت و روک ٹوک کے دفن کی جانے لگیں، تو ایسی جگہ کا عرفاً اور شرعاً حکم وقف کے مترادف سمجھا جاتا ہے، بشرطیکہ وہ زمین کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہ ہو۔(ماخذ: کفایت المفتی، کتاب الوقف، جلد 7، صفحہ 212)۔
لہذا سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پرکہ مذکور جگہ اگر واقعۃً کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہوتو ایسی صورت میں وہ قبرستان اگر اتنا پرانا ہو چکا ہو کہ اس میں مدفون میتوں کے آثار بالکلیہ مٹ چکے ہوں، یعنی قبروں کے نشانات ختم ہو گئے ہوں، ہڈیاں اور اجسام خاک میں مل چکے ہوں ، اور اب وہاں مزید تدفین بھی نہ ہورہی ہو ،بلکہ وہاں تدفین کا سلسلہ ہی بالکلیہ منقطع ہو چکا ہو ،اور آئندہ بھی تدفین کی کوئی صورت متوقع نہ ہو، اور ڈیڑھ سو سال سے ویسے ہی بے کار پڑی ہوئی ہو، حتیٰ کہ اہلِ محلّہ کے نوجوانوں نے اسے لہو و لعب، کھیل کود یا دیگر غیر مناسب سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہو تو ایسی صورت میں فقہی اعتبار سے وہاں کسی شرعی و اجتماعی مصلحت کے تحت تبدیلی کی گنجائش موجود ہے،
چونکہ اس طرح کے مقام کے خالی پڑے رہنے سے غیر شرعی تصرف یا ناجائز قبضے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے اہلِ علاقہ کے باہمی مشاورت ، اتفاقِ رائےاور متعلقہ تھانہ کے اعلی ذمہ دار کی اجازت سے اس پر عیدگاہ /جنازہ گاہ بنانے کی گنجائش ہے ؟
کمافی عمدة القاري شرح صحيح البخاري: فإن قلت: هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد اھ(4/ 179)۔
وفی رد المحتار:وقال الزيلعي: ولو بلي الميت وصار تراباً جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ قال في الإمداد ويخالفه ما في التاترخانية: إذا صار الميت تراباً في القبر يكره دفن غيره في قبره؛ لأن الحرمة باقية، وإن جمعوا عظامه في ناحية، ثم دفن غيره فيه تبركاً بالجيران الصالحين ويوجد موضع فارغ يكره ذلك اهـ قلت: لكن في هذا مشقة عظيمة، فالأولى إناطة الجواز بالبلاء إذا لايمكن أن يعد لكل ميت قبر لايدفن فيه غيره وإن صار الأول تراباً، لا سيما في الأمصار الكبيرة الجامعة، وإلا لزم أن تعم القبول السهل والوعر على أن المنع من الحفر إلى أن لايبقى عظم عسر جداً وإن أمكن ذلك لبعض الناس لكن الكلام في جعله حكماً عاماً لكل أحد، فتأمل اھ (2/ 233)۔
وفي رد المحتار:قال في الأحكام: لا بأس بأن يقبر المسلم في مقابر المشركين إذا لم يبق من علاماتهم شيء كما في خزانة الفتاوى، وإن بقي من عظامهم شيء تنبش وترفع الآثار وتتخذ مسجدا، لما روي «أن مسجد النبي - صلى الله عليه وسلم - كان قبل مقبرة المشركين فنبشت» كذا في الواقعات اھ (2/234)۔
وفی الشامیہ:مطلب في استبدال الوقف وشروطه (قوله: وجاز شرط الاستبدال به إلخ) اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار كذا حرره العلامة قنالي زاده في رسالته الموضوعة في الاستبدال اھ)کتاب الوقف، مطلب في استبدال الوقف وشروطه/4/384)۔
وفی الفتاوى الهندية:و سئل هو أيضًا عن المقبرة في القرى إذا اندرست و لم يبق فيها أثر الموتى لا العظم و لا غيره هل يجوز زرعها و استغلالها؟ قال: لا، و لها حكم المقبرة، كذا في المحيط اھ (2/ 470)۔
وفی الھندیة: ولو بلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ في قبرہ وزرعه والبناء علیه،کذا فی التبیین اھ (1/167)۔