ہدیہ

بیٹیوں کو زندگی میں بیٹوں سے کم حصہ دینے کے ازالہ کا طریقہ

فتوی نمبر :
88796
| تاریخ :
2025-11-12
معاملات / مالی معاوضات / ہدیہ

بیٹیوں کو زندگی میں بیٹوں سے کم حصہ دینے کے ازالہ کا طریقہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرے نام پر ایک گھر تھا جو میرے شوہر نے مجھے حق مہر میں دیا تھا میرے شوہر کے انتقال کے بعد میرے بیٹوں نے حصہ کرنے کا کہا تو میں نے اپنے بڑے بیٹے سے کہا کہ اس کا شریعت کے مطابق حصہ کر دیں جس میں سے میں نے چار لاکھ روپے رکھے ہیں اور باقی کہا کہ شریعت کے مطابق بہن بھائیوں میں تقسیم کر لیں جو گھر میرے بیٹے نے مجھ سے خرید لیا اور بہن بھائیوں کو چھ سال میں تھوڑے تھوڑے کر کے ان کے حصے دے دیے میرے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں جو کہ میں نے دو دو حصے بیٹوں کو اور ایک ایک حصہ بیٹیوں کو دیا تھا جو کہ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ زندگی میں بیٹوں اور بیٹیوں کا حصہ برابر ہوتا ہے مجھے اس چیز کا معلوم نہیں تھا ہو سکتا ہے میرے بڑے بیٹے کو بھی معلوم نہ ہو اب میرے لیے اگے کیا حکم ہے کیا میں بیٹوں سے پیسے واپس لوں یا پھر میرے پاس جو پیسے ہیں ان میں سے بیٹیوں کو بھی ایک ایک حصہ اور دوں مطلب کہ پہلے میں نے پونے چار لاکھ روپے بیٹوں کو اور پونے دو لاکھ روپے بیٹیوں کو دیا ہے اب جو پیسے رہے ہیں وہ کیا مجھے بیٹیوں کو دینا ہوگا کیا قیامت کے دن مجھ سے اس کا حساب ہوگا یا پھر نہیں ہوگا برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا نور جہاں بانگی کراچی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے، کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے،البتہ اگرکوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلاجبرواکراہ محض اپنی مرضی وخوشی سےاپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیارہے، اوریہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائیگا۔ جس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنے اولاد کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعابھی درست اور تام ہوسکے، محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں، تاہم اگر سائلہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے۔
لہذا سائلہ نے جب اپنا ملکیتی گھر اپنے اولاد کے درمیان تقسیم کرتے ہوئے اگرچہ ان کے درمیان برابری کرنا افضل تھا ،لیکن اگر لا علمی کی وجہ سے اگر ان کے درمیان برابری نہ ہو سکی ، تو اس کی وجہ سے شرعاً وہ گناہ گار نہ ہوئی اور اسے ذاتی رقم پیسوں کو دینا لازم بھی نہیں ، اس لئے اس سلسلہ میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى الخ (کتاب الوقف،ج: 4، ص: 444، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية الخ (کتاب الھبۃ ج: 4، ص: 391، ط: ماجدیۃ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قائرات تبیک عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88796کی تصدیق کریں
0     295
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی کو ہدیہ یا گفٹ کرنے کا شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ہدیہ 1
  • کیا کسی ہندو کا تحفہ قبول کیا جاسکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   ہدیہ 0
  • کوئی چیز ہبہ کر کے واپس لینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • طلاق کے بعد شوہر کونسے گفٹ واپس لے سکتاہے؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا کسی ایک بیٹے کو ہدیہ دینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 3
  • قبضہ دیے بغیر , فقط کاغذات میں مکان نام کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • ماں کے لئے اپنی اولاد میں سے کسی ایک بیٹے کو گھر ہدیہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بیٹے کو ہبہ کردہ مکان میں بیٹیوں کے حصہ کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • انٹرسٹ فری پراویڈنٹ فنڈ میں ملنےوالی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اپنی اولاد کے درمیان زندگی میں تقسیمِ جائیداد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا بیٹوں کو گھر ہدیہ کرنے کے بعد بیٹیوں کا اس میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • باپ کے لئے تمام اولاد کے ساتھ برابری کا معاملہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم اور طریقۂ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • کیا زندگی میں اپنے بہن بھائیوں اور ان کی اولاد میں جائیداد تقسیم کی جا سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • بیوی کے لیے شوہر کو ہدیہ کئے ہوئے سونے کا استعمال جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد مرحوم کی جانب سے زندگی میں دی جانے والی چیز میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بڑے بیٹے نے ماں کے ساتھ رہتے ہوئے, ماں کے پلاٹ پر گھر تعمیر کیا

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • قادیانی کمپنی کی تشہیری مہم میں شریک ہو کر گرانٹ وصول کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اولاد کے درمیان اپنی زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بہن کے لئے بھائی سے والد کی طرف سے دی گئی جائیداد میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • مکان کی رقم اولاد کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں اولاد کے درمیان تقسیمِ جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • نکاح میں بیوی کو شوہر کی جانب سے دیے گئے تحفوں کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات