السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرے نام پر ایک گھر تھا جو میرے شوہر نے مجھے حق مہر میں دیا تھا میرے شوہر کے انتقال کے بعد میرے بیٹوں نے حصہ کرنے کا کہا تو میں نے اپنے بڑے بیٹے سے کہا کہ اس کا شریعت کے مطابق حصہ کر دیں جس میں سے میں نے چار لاکھ روپے رکھے ہیں اور باقی کہا کہ شریعت کے مطابق بہن بھائیوں میں تقسیم کر لیں جو گھر میرے بیٹے نے مجھ سے خرید لیا اور بہن بھائیوں کو چھ سال میں تھوڑے تھوڑے کر کے ان کے حصے دے دیے میرے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں جو کہ میں نے دو دو حصے بیٹوں کو اور ایک ایک حصہ بیٹیوں کو دیا تھا جو کہ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ زندگی میں بیٹوں اور بیٹیوں کا حصہ برابر ہوتا ہے مجھے اس چیز کا معلوم نہیں تھا ہو سکتا ہے میرے بڑے بیٹے کو بھی معلوم نہ ہو اب میرے لیے اگے کیا حکم ہے کیا میں بیٹوں سے پیسے واپس لوں یا پھر میرے پاس جو پیسے ہیں ان میں سے بیٹیوں کو بھی ایک ایک حصہ اور دوں مطلب کہ پہلے میں نے پونے چار لاکھ روپے بیٹوں کو اور پونے دو لاکھ روپے بیٹیوں کو دیا ہے اب جو پیسے رہے ہیں وہ کیا مجھے بیٹیوں کو دینا ہوگا کیا قیامت کے دن مجھ سے اس کا حساب ہوگا یا پھر نہیں ہوگا برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا نور جہاں بانگی کراچی۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے، کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے،البتہ اگرکوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلاجبرواکراہ محض اپنی مرضی وخوشی سےاپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیارہے، اوریہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائیگا۔ جس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنے اولاد کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعابھی درست اور تام ہوسکے، محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں، تاہم اگر سائلہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے۔
لہذا سائلہ نے جب اپنا ملکیتی گھر اپنے اولاد کے درمیان تقسیم کرتے ہوئے اگرچہ ان کے درمیان برابری کرنا افضل تھا ،لیکن اگر لا علمی کی وجہ سے اگر ان کے درمیان برابری نہ ہو سکی ، تو اس کی وجہ سے شرعاً وہ گناہ گار نہ ہوئی اور اسے ذاتی رقم پیسوں کو دینا لازم بھی نہیں ، اس لئے اس سلسلہ میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔
کما فی رد المحتار: فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى الخ (کتاب الوقف،ج: 4، ص: 444، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية الخ (کتاب الھبۃ ج: 4، ص: 391، ط: ماجدیۃ )۔