دو یتیم بچیوں کے والد کے انتقال کے بعد ان دونوں کو ان کے والد کی میراث میں ملے ہوئے حصے میں سے دونوں بچیوں کی شادی کے تمام اخراجات انہی دونوں بچیوں کے میراث کے حصے میں سے کیے گئے، اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ شادی کے موقع پر جو مہمانوں نے تحفے، تحائف اور نقدی رقوم ( جسے ”نوتہ“ کہا جاتا ہے) دیے، تو کیا اس نوتے اور تحائف پر انہی یتیم بچیوں کا حق ہوگا ؟کیونکہ شادی انہی کی تھی اور انہی کی مال سے ہو رہی تھی،یا پھر نوتہ کسی اور شخص جیسے سوتیلی ماں کا حق شمار ہوگا، شرعاً نوتے کے حق کا فیصلہ کس بنیاد پر ہوگا؟
شادی بیاہ کے موقع پر تحفے،تحائف اوربطور گفٹ(ہدیہ) دیےجانے والےلفافے کا اصل مالک شرعاًوہی شخص ہوگاجس کے نام پر یہ دیے گئے ہوں،چنانچہ اگر یہ لفافے اور تحائف ان بچیوں کے نام پر ہوں تو وہ انہی کاحق ہوگا، اگر ان کے شوہر کے نام پر ہوں تو اس کے، اور اگر ان بچیوں کے والد یا سوتیلی والدہ کے نام پر ہوں تو وہ اس کی ملکیت شمار ہونگے،اور اگر کسی کے نام پر نہ ہوں اور تحقیق کرنا بھی ممکن نہ ہو تو عرف کو دیکھا جائے گا، عرف میں یہ تحائف جس کےسمجھے جاتے ہوں اسی کے ہونگے۔
کما فی درر الاحکام: الهدايا التي تأتي في الختان أو الزفاف تكون لمن تأتي باسمه من المختون أو العروس أو الوالد والوالدة وإن لم يذكر أنها وردت لمن ولم يمكن السؤال والتحقيق فعلى ذلك يراعى عرف البلدة وعادتها الخ(المادة 876، الهدايا التي تأتي في الختان أو الزفاف،ج2، ص481، ط:دار الجیل)۔