کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلے میں کہ مسمی محمد حیدر ، میرااپنے سسر کے ذمہ قرض تھا وہ ادائیگی میں ٹال مٹول کر رہا تھا تو میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ ” اگر آپ کے والد نے مجھے پیسے نہیں دیئے، اور تم باپ کے گھر گئی تو تو مجھ پر طلاق ہوگی“۔
پھر انہوں نے کسی عالم سے پوچھا کہ کچھ پیسے دے دو اگر سارے نہیں دے سکتے تو سسر نے مجھےایک ہزار روپے دیے اور اس کے بعد میری بیوی والدین کے گھر جانے لگی تو کیا اسے طلاق واقع ہوئی کہ نہیں ؟
دوسرے موقع پر میں نے اپنی سالی کو کہا کہ ”اگر یہ تمہارے گھر ائی تو یہ مجھ پر طلاق واقع ہو گی “ اور یہ جملہ میں نے تین مرتبہ بولا تھا پھر میرے سسر اور میرے سالی آئی اور کہا کہ ہم نے علماء سے پوچھا ہے کہ اس پر طلاق ہو گئی ہے ، ہم اس کو لے کر جا رہے ہیں اور یہ لوگ میری بیوی کو لے کر گئے اور یہ اسی سالی کے گھر گئی جس سے میں نے منع کیا تھا ۔
اب یہ معلوم کرنا کہ اس صورت میں کتنی پر طلاقیں واقع ہوئیں؟ اور اب ہمارے لیئے کیا حکم ہے؟
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق سائل نے اپنے سسر کے قرض کی واپسی میں ٹال مٹول کرنے کی صورت میں جب اپنی بیوی کو مذکور جملہ ” اگر آپ کے والد نے مجھے پیسے نہیں دیئے، اور تم باپ کے گھر گئی تو تو مجھ پر طلاق ہوگی الخ “ کہے ، تو اس میں سائل نے پیسے نہ دینے پرطلاق معلق کی تھی، لہذا بعد میں جب سائل کے سسر نے ایک ہزار روپے بھی دے دیے(اگرچہ پورے پیسے نہ دیئے ہوں ) تو اس سے تعلیق ختم ہوگئی ، جس کے بعد سائل کی بیوی کا اپنے میکہ جانے کی صورت میں اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔تاہم اس کے بعد دوسرے موقع پر جب سائل نےاپنی سالی کو مخاطب کرکے مذکورہ جملہ ”اگر یہ تمہارے گھر آئی تو یہ مجھ پر طلاق ہوگی “ تین بار کہہ دیا ، تو اس سے ان کی بیوی کے اپنی سالی کے گھر جانے پر تین طلاقیں معلق ہوچکی تھیں ۔
لہذا بعد میں جب سائل کے سسر اور انکی سالی سائل کی بیوی کو اپنے ساتھ لے گئے اور سائل کی بیوی بغیر کسی جبر واکراہ کے اپنی مرضی سےاس گھر میں داخل ہوئی جہاں جانے پر سائل نے تین طلاق معلق کی تھی تو وہاں جانے کے ساتھ ہی سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی،اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی حلالۂشرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح کرسکتے ہیں، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔
کما فی الدر: (وحنث في لا يخرج) من المسجد (إن حمل وأخرج) مختارا (بأمره وبدونه) بأن حمل مكرها (لا) يحنث (ولو راضيا بالخروج)¬ في الأصح الخ۔
وفی الشامیۃ تحت (قوله بأن حمل مكرها) أي ولو كان بحال يقدر على الامتناع ولم يمتنع في الصحيح خانية، وفي البزازية تصحيح الحنث في هذه الصورة هذا. واعترض في الشرنبلالية ذكر الإكراه هنا بأنه لا يناسب قوله ولو راضيا إذ لا يجامع الإكراه الرضا. اهـ وفي الفتح: والمراد من الإخراج مكرها هنا أن يحمله ويخرجه كارها لذلك لا الإكراه المعروف هو أن يتوعده حتى يفعل فإنه إذا توعده فخرج بنفسه حنث، لما عرف أن الإكراه لا يعدم الفعل عندنا اهـ وأقره في البحر. (باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى والإتيان والركوب، کتاب الأیمان، ج: 3،ص: 389، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: (إذا حلف الرجل لا يدخل دار فلان) فأدخل مكرها لا يحنث هذا إذا حمله إنسان وأدخله مكرها فأما إذا أكرهه حتى دخل معه بنفسه يحنث عندنا الخ۔ (الفصل التاسع في الأيمان،كتاب الحيل، ج: 6، ص: 389، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر: [فروع] في أيمان الفتح ما لفظه، وقد عرف في الطلاق أنه لو قال: إن دخلت الدار فأنت طالق، إن دخلت الدار فأنت طالق، إن دخلت الدار فأنت طالق وقع الثلاث، وأقره المصنف ثمة الخ۔
وفی الشامیۃ: (قوله وقع الثلاث) يعني بدخول واحد كما تدل عليه عبارة أيمان الفتح، حيث قال: ولو قال لامرأته والله لا أقربك ثم قال والله لا أقربك فقربها مرة لزمه كفارتان. اهـ. والظاهر أنه إن نوى التأكيد يدين الخ۔ [مطلب فيما لو ادعى الاستثناء وأنكرته الزوجة، باب التعلیق، ج: 3، ص: 376، ط: سعید)۔
و فی الدر المختار: الأصل أن ألأیمان مبنیۃ عند الشافعی علی الحقیقۃ اللغویۃ و عند مالک علی الإستعمال القرآنی وعند أحمد علی النیۃ و عندنا علی العرف مالم ینو ما یحتملہ علی اللفظ فلا حنث فی لایھدم إلا بالنیۃ فتح (الأیمان مبنیۃ علی الالفاظ لا علی الاغراض الخ)۔
وفی الشامیۃ تحت (قولہ الأیمان مبنیۃ علی الالفاظ الخ) أی الألفاظ العرفیۃ بقرینۃ ماقبلہ (الی قولہ) لا علی الأغراض أی المقاصد و النیات احترز بہ عن القول ببنائھا علی النیۃ فصار الحاصل أن المعتبر إنما ھو اللفظ العرفی المسمی و أما غرض الحالف فإن کان مدلول الفظ المسمی أعتبر و إن کان زائداً علی الفظ فلایعتبر الخ (باب الیمین فی الدخول و الخروج، ج: 3، ص: 743، ط: سعید)۔
وفیھا أیضاً: وهب لرجل مالا فقال الواهب امرأتي طالق ثلاثا إن أنفقت هذا المال الذي وهبتك إلا على أهلك ثم إنه أنفق بعضه على أهله وقضى بالباقي دينا أو حج أو تزوج لا تطلق امرأة الحالف ذكره خواهر زاده في شرح الحيل، وعلله بأن شرط بره إنفاق جميع الهبة على أهله فيكون شرط حنثه ضد ذلك، وهو إنفاق جميعها على غيرهم ولم يوجد، وهو نظير ما لو حلف لا يأخذ ما له على فلان إلا جميعا وأخذ البعض دون البعض لا يحنث لأن شرط بره أخذ جميع الدين جملة فيكون شرط حنثه ضد ذلك، وهو أخذ جميع الدين متفرقا ولم يوجد ذلك كذا هنا. اهـ.وحاصله أنه لا يحنث بمجرد قبض البعض جملة أو متفرقا ما لم يقبض الباقي كما مر، فإذا ترك البعض بأن لم يقبضه أصلا بإبراء أو بدونه لم يحنث لعدم شرطه وهو قبض كله غير جملة أي متفرقا. الخ۔ (باب الیمین فی الضرب والقتل وغیر ذلک،کتاب الأیمان، ج: 3، ص:842، ط: سعید)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0