اسلام علیکم مفتی صاحب پوچھنا یہ تھا کہ میں نے اپنی طلاق معلق کی تھی یوں کہہ کر اگر میں فحش فلم کے ذریعے خواہش پوری کروں تو زنیرہ کو ایک طلاق اور اس وقت میری مراد یہی تھی کہ ہاتھ کا استعمال نہیں کروں گا فحش فلم دیکھ کر ۔اب میں نے فحش فلم دیکھی اور ساتھ ہی ساتھ ہاتھ سے خواہش پوری کرلی ۔
اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ فحش فلم دیکھنے سے بھی خواہش پوری ہو جاتی ہے جو کہ میرے مذکورہ الفاظ تھے میں نے دارالعلوم کراچی کے مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ آپ نے ہاتھ کا استعمال کرلیا ہے
آپ اپنے علم سے میری رہنمائی فرما دیں۔
جزاک اللّہ خیر
واضح ہو کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی صورت میں اس شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نےجب مذکور الفاظ” اگر میں فحش فلم کے ذریعے خواہش پوری کروں تو زنیرہ کو ایک طلاق“کہے،اس وقت سائل کی نیت بھی ہاتھ سے خواہش پوری کرنا تھی اور ہاتھ سے فارغ ہونے کو بھی عرف میں خواہش پوری کرنا کہا جاتا ہے ، لہذا جب سائل فحش فلم دیکھتے وقت اپنے ہاتھ سے فارغ ہو گیا تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو کر مذکور تعلیق و شرط ختم ہو چکی ہے ، لہذا شوہر (سائل ) اگر دورانِ عدت(تین ماہواری مکمل ہونے سے قبل )زبانی طور پر رجوع کر لے کہ مثلاً میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھولے تو اس سے بھی رجوع درست ہو جائے گا اور دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا ، ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی اور اس کے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کر کے تجدیدِ نکاح لازم ہو گا تاہم آئندہ کے لئے سائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
جبکہ فحش فلمیں دیکھنا ناجائز و حرام اور گناہ کبیرہ ہے،اسی طرح مشت زنی کرنے کے متعلق حدیثِ مبارکہ میں سخت وعید وارد ہوئی ہے ، لہٰذا سائل کے ذمہ اس فعل حرام کے ارتکاب پر صدق دل سے توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے ا س سے مکمل اجتناب لازم ہے ۔
کما فی روح المعانی: و من االناسِ من استدل علی تحریمہ بشئ آخر نحو ما ذکرہ المشایخ من قولہ ﷺ "ناکح الید ملعون " و عن سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ عذب اللہ تعالٰی امۃ کانوا یبعثون بمذاکیرھم و عن عطاء سمعت قوما یحشرون و ایدھم حبالی و اظن انھم الذین یستمعون بایدھم الخ (سورۃ المؤمنون، /7، ج: 7، ص: 214، ط: دار الفکر)۔
وفی الدر المختار: الأصل أن ألأیمان مبنیۃ عند الشافعی علی الحقیقۃ اللغویۃ و عند مالک علی الإستعمال القرآنی وعند أحمد علی النیۃ و عندنا علی العرف مالم ینو ما یحتملہ علی اللفظ فلا حنث فی لایھدم إلا بالنیۃ فتح (الأیمان مبنیۃ علی الالفاظ لا علی الاغراض الخ)۔
وفی الشامیۃ تحت (قولہ الأیمان مبنیۃ علی الالفاظ الخ) أی الألفاظ العرفیۃ بقرینۃ ماقبلہ (الی قولہ) لا علی الأغراض أی المقاصد و النیات احترز بہ عن القول ببنائھا علی النیۃ فصار الحاصل أن المعتبر إنما ھو اللفظ العرفی المسمی و أما غرض الحالف فإن کان مدلول الفظ المسمی أعتبر و إن کان زائداً علی الفظ فلایعتبر الخ (باب الیمین فی الدخول و الخروج، ج: 3، ص: 743، ط: سعید)۔
وفی درر الحکام: الأصل أن الألفاظ المستعملة في الأيمان مبنية على العرف عندنا وعند الشافعي على الحقيقة لأنها حقيق بأن تراد دون المجاز وعند مالك على معاني كلام الله تعالى (حلف لا يدخل بيتا يحنث بدخول صفته) لأن البيت اسم لمبنى مسقف مدخله من جانب واحد بني للبيتوتة سواء كان حيطانه أربعة أو ثلاثة الخ۔ (باب حلف الفعل، ج: 2، ص: 44، ط: دار أحیاء الکتب العربیہ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0