میں پیدائشی فقہ حنفی کا تابع ہوں ،لیکن نمازجنازہ میں احناف کے نزدیک سورہ فاتحہ نہیں ہے، لیکن امام شافعی کہتے ہیں کہ یہ واجب ہے ، کیا میں امام شافعی کی پیروی کرسکتا ہوں ؟ براۓ مہربانی میری رہنمایئ کریں جزاک اللہ
واضح ہو کہ نماز جنازہ اصلا دعا ہے ،لہذا اس میں سورہ فاتحہ بطور دعا تو پڑھی جاسکتی ہے ،لیکن بطور قراءت پڑھنا درست نہیں ، اور یہی مؤقف چونکہ راجح ہے ،اور حضرات صحابہ وتابعین ؒ کے آثار سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ،لہذا سائل کیلئے محض خواہش نفسانی کی بناء پر دوسرے مؤقف پر عمل کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔
لما فی المرقاۃ : و قال ابو حنیفۃ :لیست بواجبۃ (الی ان قال)وفی شرح ابن الھمام :قالوا: لا یقرء الفاتحۃ الا ان یقرءھا بنیۃ الثناء ولم تثبت القراءۃ عن رسول اللہ ، وفی مؤطا مالک : عن نافع ان ابن عمر کان لا یقرءھا فی الصلاۃ علی الجنازۃ (کتاب الجنائز،المشی بالجنازۃ والصلاۃ علیھا، ج:4 ،ص:141 ، ط:حقانیہ ،)
وفی الدرۤـ(ولا قراءۃ فیھا ولا تشھد) وعین الشافعی فی الاولی و عندنا تجوز بنیۃ الدعاء و تکرہ بنیۃ القراءۃ (کتاب الجنائز ، ج:2 ،ص:214، ط:سعید)
وفی اصول الافتاء : و لکن العامی الذی لایستطیع ان یقارن بین ھذہ الاراء علی اساس الدلیل الشرعی لو اتیح لہ ان یاخذ بما شاء ویرد ما شاء ،فانہ یخشی علیہ ان یاخذمن ھذہ الاقوال ما یوافق ھواہ ۔۔۔۔۔۔۔فمن ھنا دعت الحاجۃ الی التمذھب بمذھب معین ،(ص:78 ،ط:معارف القران)