السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!محترم مفتی صاحب،میں شدید غصے کی حالت میں طلاق کو ایک شرط کے ساتھ مشروط کر چکا تھا۔ میں نے اپنی بیوی سے رات کے وقت بس یہ کہا تھا: 'تم صبح چلی جانا۔ اگر تم صبح میرے گھر نہ گئیں، تو تم پر طلاق ہو جائے گی (بشمول تین طلاقوں کی قید، اگر شرط میں فرق آیا)۔'میں نے رات کو بات کرتے وقت کسی بھی طرح وقت کی کوئی حد یا 'طلوعِ آفتاب' کا ذکر نہیں کیا تھا، البتہ مجھے شدید وسوسہ ہے کہ کال پر میں نے 'صبح سویرے چلی جانا' بولا تھا، نہ کہ 'صبح سویرے پہنچ جانا'۔ میرے پاس وائس میسج موجود ہے، جس میں میرے الفاظ صرف 'صبح' کے ہیں، البتہ میری بیوی تیار ہو کر صبح 6:45 پر اپنے گھر سے نکل آئی تھیں یعنی طلوعِ آفتاب (6:46) کے فوراً ساتھ۔ وہ میرے گھر کے اندر صبح 7:25 سے 7:27 کے درمیان پہنچیں۔میں مری کے ایک گاؤں سے ہوں، جہاں طلوعِ آفتاب صبح 6:46 پر ہوتا ہے۔ محترم مفتی صاحب، آپ واضح فرما دیں: میرے گاؤں میں اتنی جلدی کوئی آئے یا جائے تو ہم اس کو 'صبح سویرے' ہی بولتے ہیں۔ اگر بالفرض میرا شک درست ہو اور میں نے 'صبح سویرے چلی جانا' کہا ہو، تو کیا بیوی کے 6:45 پر نکلنے کے پیشِ نظر میری شرط پوری ہوئی تھی یا نہیں؟ میرے پاس 'صبح' کہنے کا یقینی ثبوت ہے، لیکن شک 'صبح سویرے' کا ہے۔ کیا ان حالات میں طلاق (خواہ ایک ہو یا تین) واقع ہوئی ہے؟برائے مہربانی، میرے شک کو دور کر کے رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے طلاق معلق کرتے وقت بیوی کو صبح گھر آنے کا کہا تھا اور بیوی کے گھر پہنچنے والے ذکر کردہ وقت پر عرفاً صبح ہی کا اطلاق ہوتا ہے۔ لہذا جب بیوی اس وقت گھر آ چکی تھی، تو اس پر معلق کی گئی طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو۔ لہذا سائل کو بلاوجہ شکوک و شبہات میں پڑنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔
کما فی شرح مختصر الكرخ: قال محمد: وإذا حلف لا يَتَصَبَّح، فالتصبح عندي ما بين طلوع الشمس وبين ارتفاع الضحى الأكبر، فإذا ارتفع الضحى الأكبر [ذهب] وقت التصبح؛ وذلك لأن التصبح يقع في الصباح فيفيد زيادة على ما يفيد الإصباح اھ( باب الرجل يحلف على الغداء والعشاء. ج : ۵،ص13،ط : دار الاسفار۔)
وفی الشامی : ومعناه أن اللفظ إذا كان عاما يجوز تخصيصه بالعرف كما لو حلف لا يأكل رأسا فإنه في العرف اسم لما يكبس في التنور ويباع في الأسواق، وهو رأس الغنم دون رأس العصفور ونحوه، فالغرض العرفي يخصص عمومه، فإذا أطلق ينصرف إلى المتعارف، بخلاف الخارجة عن اللفظ كما لو قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق، فإنه يلغو ولا تصح إرادة الملك أي إن دخلت وأنت في نكاحي وإن كان هو المتعارف لأن ذلك غير مذكور، ودلالة العرف لا تأثير لها في جعل غير الملفوظ ملفوظا."اھ(كتاب الأيمان،ج : 3،ص: 743، ط: سعيد)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0