السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !محترم ! میں آپ سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے میزان بینک میں ایک اکاؤنٹ کھلوایا ہے۔اس اکاؤنٹ کا نام میزان پلس اکاؤنٹ ہے اور یہ سیونگ اکاؤنٹ ہے اس میں۔میں پورا مہینہ رقم اس میں لگواتا بھی رہتا ہوں اور نکلواتا بھی رہتا ہوں یعنی میرا اکاؤنٹ جو ہے ،وہ ا ایکٹیو دیتا ہے چلتا رہتا ہے، لیکن اس کے باوجود بینک والے مجھے ماہانہ کچھ نہ کچھ پرافٹ مثال کے طور پر ابھی مجھے یہ اکاؤنٹ کھولے دو مہینے ہوئے پچھلے مہینے انہوں نے مجھے 25 سے26روپے کی پرافٹ مجھے میرے اکاؤنٹ میں ڈلیور کی، اور اس مہینے34 سے35 روپے غالبا انہوں نے میرے اکاؤنٹ میں رقم ڈلیور کی۔ کیا اس اکاؤنٹ میں اس طرح کی پرافٹ میرے لیے لینا شرعی اعتبار سے جائز ہے؟ کہیں یہ سود کے زمرے میں تو نہیں آتی اور یہ اکاؤنٹ میرا برقرار رکھنا کیا ٹھیک ہے یا میں اس کو منسوخ کروا دوں؟
ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک کے معاملات مستند مفتیان کرام کے زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق انجام پاتے ہیں ،لہذا سائل کے لئے میزان بینک میں "میزان پلس اکاؤنٹ " کھلوانے اور اس پر ملنے والے منافع کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ۔