میں اپنی امی اور بہن سے پندرہ لاکھ لے کر کاروبار کر رہاہوں ہوٹل کا ، ان پندرہ لاکھ کا سامان لیا ہے ،کرسی میز وغیرہ لیے ہیں۔ اب ان کو حلال منافع کیسے دو ں ؟ان کو کو ئی اعترض نہیں بس حلال ہو ۔
صورت مسؤلہ میں سائل نے یہ نہیں لکھا کہ اس نے اپنی بہن اور والدہ سے پیسے ادھار لیے ہیں یا باقاعدہ انہیں اپنے ساتھ کاروبار میں شریک کیا ہے ،تاہم سائل نے اگر پیسے ادھار لیے ہوں تو ایسی صورت میں تو اس کی والدہ اور بہن کا ان سے پیسوں پر اضافی رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ،لیکن اگر سائل نے انہیں اپنے ساتھ کاروبار میں شریک کیا ہو تو ایسی صورت میں فیصدی حساب سے نفع کا کوئی بھی تناسب طے کیا جاسکتا ہے ،بشرطیکہ وہ سائل کی والدہ اور بہن کے کل سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نہ ہو ،جبکہ سائل کی طرف سے اگر صرف عمل ہو ،پیسہ نہ ہو تو اس شرط پر عمل بھی شرعاً ضروری ہیں ۔
کما فی بدائع الصنائع : ((منها) إعلام مقدار الربح؛ لأن المعقود عليه هو الربح، وجهالة المعقود عليه توجب فساد العقد ولو دفع إليه ألف درهم عن أنهما يشتركان في الربح ولم يبين مقدار الربح جاز ذلك، والربح بينهما نصفان؛ لأن الشركة تقتضي المساواة) ج : 6،ص : 85
و فیہ ایضا : (ومنها) أن يكون المشروط لكل واحد منهما من المضارب ورب المال من الربح جزءا شائعا، نصفا أو ثلثا أو ربعا، فإن شرطا عددا مقدرا بأن شرطا أن يكون لأحدهما مائة درهم من الربح أو أقل أو أكثر والباقي للآخر لا يجوز،
و فی فقہ المعاملات : يشترط باتفاق الفقهاء أن يكون الربح معلوم القدر.
فيجب تحديد حصة المتعاقدين من الربح في العقد لأن المعقود عليه هو الربح وجهالة المعقود عليه توجب فساد العقد ، فوجب معلومية الربح ، ج : 1، ص : 414 ۔)