میرے والد ماجد جو کہ ایک مدرسے کے مہتمم تھے ،کو کسی دوست نے اپنی زمین حوالے کی، الفاظ یہ تھے کہ یہ زمین میں آپ کے حوالے کرتا ہوں، والد نے کہا کہ اس وقت مدرسہ زیادہ مستحق ہے، اس لئے مدرسے کے لئے وقف کرو تو اچھا ہے تو اس نے کہا کہ آپ کی مرضی ہے، میں آپ کے حوالے کرتا ہوں، پھر آپ اگر چاہیں تو اس کی آمدن مدرسے کو دیں یا خود استعمال کریں، پھر والد صاحب اپنی منشاء کے مطابق خرچ کرتے تھے ،
اب والد اہتمام سے مستعفی ہوچکے ہیں، مدرسے کا مہتمم کوئی اور ہے جو مطالبہ کررہا ہے کہ وہ زمین مدرسے کی تھی ،لہذا میرے حوالے کرو، جب کہ مالک زمین کا تو انتقال ہوچکا ،باقی اس کے رشتہ دار ہیں جو معترف اور گواہ ہیں اس بات کے کہ واقعی زمین قاری صاحب (میرے والد )کو دی گئی تھی ،
اب یہ زمین کس کی ملکیت ہوگی ،والد کی یا مدرسہ کی ؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو ،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً مرحوم نے زمین سائل کے والد کے طرف سے مدرسہ کی ضرورت بتلانے کی با وجود مدرسہ کی نام پر دینے کے بجائے سائل کے والد کو مالکانہ طور پر دی ہو، اور اسکے بعد سائل کے والد نے مذکور زمین مدرسہ کیلئے وقف بھی نہ کی ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کے والد ہی اس زمین کے مالک شمار ہوں گے ،اور انکا یہ زمین مدرسہ کو دینا شرعاً لازم نہیں ۔
کما فی الھندیۃ : ولو قال: جعلت لك هذه الدار، أو هذه الدار لك فاقبضها، فهو هبة، هكذا في فتاوى قاضي خان.(کتاب الہبہ ،الباب الاول، ج:4،ص: 375 ،ط :دارلفکر بیروت)