محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہم دو افراد آن لائن سیلنگ کا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں ۔ ہماری اپنی ایک ویب سائٹ ہے اور فیس بک وانسٹا گرام پر بھی کاروباری پیجز موجود ہیں۔
ہمارے مختلف وینڈرز (Suppliers) ہیں جو ہمیں واٹس ایپ کے ذریعے کپڑوں ،کھلونوں اور الیکٹرانک اشیاء کی تصاویر اور ان کی ہول سیل قیمتیں فراہم کرتے ہیں ۔ ہم انہی تصاویر کو اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پیجز پر ریٹیل قیمت کے ساتھ لگا دیتے ہیں ۔
جب کوئی گاہک ہمیں آرڈر دیتا ہے تو ہم اس کے بعد وینڈر سے وہ سامان خریدتے ہیں، اور وینڈر ہی وہ سامان کورئیر کے ذریعے براہ راست گاہک کو بھیج دیتا ہے ۔ ہم گاہک سے وصول کی گئی رقم میں سے وینڈر کو اس کی قیمت ادا کرتے ہیں، جبکہ باقی رقم ہمارا منافع ہوتی ہے۔
براہ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں:کیا مذکورہ طریقے سے کیا جانے والا آن لائن کاروبار فقۂ حنفی کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟
اگر یہ طریقہ شرعا درست نہیں تو اسے کس طرح جائز بنایا جا سکتا ہے؟
واضح ہو کہ خریدو فروخت کے شرعاً جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے،وہ اس کی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو، اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے یا ابھی تک اس کے قبضہ میں نہیں آئی تو بیع درست نہیں ہوتی ۔
چنانچہ صورتِ مسؤلہ میں سائل اورا س کاساتھی اگر وینڈرز سے کپڑے ،کھلونے ،اور الیکٹرانک اشیاء خریدےیا حسی اورمعنوی قبضہ کئے بغیرمحض ان اشیاء کی تصاویر اسٹیٹس پر لگاکر آگے کسٹمرکو بیچتاہے تویہ طریقہ شرعاً درست نہیں ، البتہ اس کے جواز کی دو صورتیں ممکن ہیں ، جیسا کہ ذیل میں آرہا ہے :
ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سائل اوراس کاساتھی پہلے وینڈر سے سامان خود خرید لیں اور کم از کم اس پر حکمی قبضہ حاصل کر لیں (مثلاً سامان ان کے نام پر مخصوص کرکےگودام میں علیحدہ رکھ دیاجائے اور ترسیل ان کی اجازت سے ہو)اس کے بعد اسے آگے گاہک کو فروخت کریں، اگرچہ ڈیلیوری براہِ راست وینڈر کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، تو یہ صورت بھی شرعاً جائز ہوگی۔
دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سائل اور اس کاساتھی وینڈرز سے یہ طے کرلے کہ ہم آپ کی پراڈکٹس آگے فروخت کروں گے اور آپ اس کے عوض ہمیں ہرشیئ پر اتنی رقم بطور کمیشن ادا کریں گے، چنانچہ وینڈرزسے اپنا مارجن طے کرنے کے بعد وہ چیز آگے فروخت کرنا اور اس پر اپنا کمیشن لینا درست ہوگا۔
كما في بدائع الصنائع: ومنها: وهو شرطُ انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكًا للبائع عند البيع، فإن لم يكن لا ينعقد... وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله ﷺ عن بيع ما ليس عند الإنسان... (ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول، فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي ﷺ «نهى عن بيع ما لم يُقبض» الخ( کتاب البیوع، فصل فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ،ج5،ص146،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفی الھدایۃ: قال (ولا یجوز بیع السمک قبل أن یصطاد) لأنہ باع مالایملکہ، (ولا فی حظیرۃ إذا کان لا یوخذ إلا بصید) لأنہ غیر مقدور التسلیم، ومعناہ إذا أخذہ ثم القاہ فیھا لوکان یوخذ من غیر حیلۃ جاز، إلا إذا اجتمعت فیھا بانفسھا ولم یسد علیھا المدخل لعدم الملک، قال: (ولا بیع الطیر فی الھواء) لأنہ غیر مملوک قبل الأخذ وکذا لو ارسلہ من یدہ لأنہ غیر مقدور التسلیم الخ(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج3، ص44،ط:دار احیاء التراث العربی)۔
وفی الدر المختار: وأما الدلال فإن باع العین بنفسہ بإذن ربھا فاجرتہ علی البائع وإن سعی بینھما وباع المالک بنفسہ یعتبر العرف وتمامہ فی شرح الوھبانیۃ،
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ:یعتبر العرف)فتجب الدلالۃ علی البائع أو المشتری اوعلیھما بحسب العرف جامع الفصولین الخ( کتاب البیوع،ج4،ص560،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: تصح الوكالة بأجر، وبغير أجر، لأن النبي صلى الله عليه وسلم كان يبعث عماله لقبض الصدقات، ويجعل لهم عمولة (1). فإذا تمت الوكالة بأجر، لزم العقد، ويكون للوكيل حكم الأجير، أي أنه يلزم الوكيل بتنفيذ العمل،الخ( العنصر الثانی : العاقد،الوکالۃ،ج4،ص2997،ط:دار الفکر)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1