کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد محترم نے بھائی کو ایک گھر دلانے کا وعدہ کیا اس شرط پر کہ ابھی آپ الگ کرائے کے مکان میں منتقل ہو جاؤ ( جس کا کرایہ بھی والد محترم ہی دیتے رہیں گے ) اور پھر وعدہ کے مطابق والد نے گھر خریدا ( جسکی رقم کی ادائیگی کی تفصیل منسلک کا غذ پر موجود ہے ) پَر بھائی نے گھر کی خستہ حالت دیکھ کر اسے لینے سے انکار کر دیا، جسکی بنا پر والد نے اسکی مرمت کروائی کہ اچھی قیمت آنے پر بھائی کو دوسرا گھر دلا دیا جائے اور بقیہ منافع کی صورت میں جو رقم ہاتھ آئے اس سے بقیہ قرض کی ادائیگی کر دی جائے۔
چونکہ گھر کی قیمت کچھ منافع بخش نہیں آرہی تھی تو والد اور بھائی کے درمیان یہ طے پایا کہ گھر بھائی کے نام پر کر والیا جائے اور والد کا قرضہ کی ادائیگی اس صورت میں ہو کہ گھر کو کرائے پر دے کر دو سال تک جو رقم حاصل ہو وہ والد وصول کریں (یاد رہے کہ اس دوران گھر اسکے اصل مالکان کے نام پرہی تھا اور بھائی کا قبضہ بھی نہیں تھا)، چنانچہ ابھی والد نے اس گھر کے کرائے کی ایک ماہ کی رقم ہی وصول کی تھی اور بھائی کے نام کروانے ہی والے تھے کہ زندگی نے مہلت نہ دی اوردنیا فانی سے پردہ فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
والد صاحب کے انتقال کے تین دن کے بعد ہم سب بھائی بہنوں کی مشاورت سے یہ طے پایا کہ والد مرحوم کی منشاء کے مطابق گھر بھائی کو دے دیا جائے اور اسکے بدلے بقایا جات میں جس میں ایک اور گھر، ایک گاڑی اور ایک چھوٹا زمین کا ٹکڑا (جس کی لاگت دس لاکھ تک ہے ) شامل ہیں اس میں سے کوئی حصہ نہ دیا جائے اور شرط کے مطابق دو سال کا کرایہ والد کے بقیہ قرض کی ادائیگی کی صورت میں لے لیا جائے ( واضح رہے کہ والد صاحب اس شر ط پر گھر دلا رہے تھےکہ پھر وراثت میں انکے بیٹے کا کوئی حصہ نہیں ہوگا) یاد رہے کہ بھائی بھی اس تقسیم پر راضی تھا،مگر والدہ کا اصرار ہے کہ گھر کے علاوہ باقی چیزوں میں سے بھائی کو حصہ کیوں نہیں دیا جا رہا؟ نیز یہ کہ بھائی کو دیا جانے والا گھر اگر وراثت میں شامل ہے تو ہم تمام ور ثاء نے اس پر قبضہ کرنے اور تقسیم کرنے سے قبل بھائی کو دے دیا ہے، اس طرح دینا ٹھیک ہے یا پہلے تقسیم اور قبضہ کر ناضروری تھا؟
سوال نمبر1: آیا یہ گھر والد کی بقیہ وراثت میں شامل ہے یا یہ بھائی کا ہی ہے اور انہیں ہی دے دیا جائے اور وراثت میں بھی بھائی کو حصہ دیا جائے ؟
سوال نمبر 2 : ہم نے باہمی رضامندی سے جو طے کیا،کیا شریعت اس طرح کے فیصلے کو مانتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر اس وراثت کو کیسے تقسیم کیا جائے ؟
3- کیا کوئی وارث ایک چیز لیکر دوسری تمام چیزوں سے دستبردار ہو سکتا ہے ؟ ( وراثت کا دوسر امال اسکے ہاتھ میں دینا ضروری تو نہیں؟ )۔
نیز یہ کہ ہم تمام در ثاء نے اس مکان کو آپس میں تقسیم کرنے سے قبل بھائی کو دے دیا،تو کیا اس طرح دینا ٹھیک ہے یا پہلے تقسیم کر ناضروری ہے؟
براہ ِکرم شریعت کی رو سے اس ساری صور تحال میں ہماری رہنمائی فرمائی جائے۔ جزاکم اللہ خیر او احسن الجزاء فی الدارین۔
نوٹ:۔ سائلہ سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ گھر کی مرمت کے بعد بیچنے کیلئے جب مناسب قیمت نہیں آرہی تھی تو والدِ مرحوم نے بھائی سے یہ معاہدہ کرلیا کہ اس گھر کو بھائی کے نام کرکے والد کے ذمہ واجب الاداء قرض گھر کو کرایہ پر دیدینے کے بعد دو سال تک حاصل ہونے والے کرایہ کی صورت میں ہو ،اور والدِ مرحوم کے ایک ماہ کا کرایہ وصول کرنے کے بعد انتقال ہوگیا، لیکن اس دوران نہ تو والدِ مرحوم نے انہیں اس گھر پر قبضہ دیا ہے اور نہ ہی اس کے نام کیا ہے، اب ہم والد کی منشاء کے مطابق یہ گھر اپنے بھائی کو ہی دینا چاہتے ہیں، اور بقیہ ترکہ میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا،اور والد کے ذمہ واجب الاداء قرض والد سے کئے ہوئے معاہدہ کی بناء پر وہ ہی ادا کرے گا،اور یہ قرض کی ادائیگی بھائی کی خوشی و دِ لی رضامندی سے ہی ہے،اور ان سب چیزوں پر بھائی راضی ہے،واضح رہے کہ مذکورہ گھر کی مالیت بھائی کو تمام ترکہ میں ملنے والے حصہ شرعی سے بھی زیادہ ہے،اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک تو بھائی کہہ رہے ہیں کہ والد کے ترکہ کو تقسیم اور اس پر قبضہ کرنے سے پہلے کسی وارث کو الگ سے اس طرح حصہ دینا جائز نہیں ہے،بلکہ پہلے تقسیم اور قبضہ کرنا ضروری ہے، آیا اس کا یہ کہنا ٹھیک ہے یا تقسیم اور قبضہ سے پہلے بھی بھائی کو مذکور گھر دیکر بقیہ چیزوں سے وہ دستبردار ہوسکتاہے یا نہیں؟ اور ہمارا اس طرح کا باہمی رضامندی سے مذکورہ تقسیم بھی شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
دوسری بات یہ کہ والدہ کا یہ اصرار کرنا کہ بھائی کو مذکورہ گھر دینے کے ساتھ ساتھ بقیہ ترکہ میں بھی اس کو حصہ دینا ہوگا، کیا ان کا یہ اصرار کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟
سوال اور وضاحتی نوٹ میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ کے والدِ مرحوم نے اگر واقعۃً مذکور وعدہ کے مطابق اپنے بیٹے(سائلہ کے بھائی ) کیلئے گھر خریدنے کے بعد گھر کے خستہ حالی ہونے کی بناء پر بیٹے نے اس کے لینے سےانکار کیا ہو اور پھر اس کی مرمت کے بعد بھی مذکورہ معاہدہ کے علاوہ مرحوم نے وہ گھر باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ اپنے بیٹے کے حوالہ نہ کیا ہو،تو ایسی صورت میں وہ (سائلہ کا بھائی )مذکور گھرکا مالک نہیں بنا ہے، بلکہ یہ گھر بدستور سائلہ کے والدِ مرحوم کی ملکیت تھا، اور اب ان کے انتقال کی صورت میں مذکور گھر بھی مرحوم کا ترکہ ہی شمار ہوکراس کے وفات کے وقت موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق تقسیم ہوگا۔
جبکہ کوئی وارث اگر ترکہ میں سے کوئی چیز لے کرباقی ترکہ سے دستبردار ہوجائے، تو شرعاً یہ دستبرداری معتبر ہوتی ہے، اور باقی ترکہ میں سے اس کا حصہ ختم ہوجاتاہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بھائی اگر واقعۃً دِلی رضامندی سے اپنے والدِ مرحوم کے ترکہ میں سے مذکور گھر لیکر بقیہ ترکہ سے دستبردار ہونے پر راضی ہو،تو ایسی صورت میں تقسیمِ ترکہ اور اس پر قبضہ سے پہلے ہی سائلہ کے بھائی کامذکورہ گھر لینا اوروالدِ مرحوم کے بقیہ ترکہ سے دستبردار ہونا ہر دو امور شرعاً جائز و درست ہیں،چنانچہ اس کےبعد انہیں اپنے والدِ مرحوم کے بقیہ ترکہ میں مزید حصہ کا مطالبہ کرنا یا پھر سائلہ کی والدہ کا باقی ترکہ میں سےاپنے مذکوربیٹے کو حصہ دینے/دِلانے کا اصرار کرنا شرعاً درست نہیں ہوگا، جس سے اجتناب لازم ہوگا۔
نیز مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف کی ادائیگی کے بعد تقسیمِ ترکہ سے قبل ہی تمام ورثاء کے ذمہ مرحوم کے واجب الأداء قرض کی ادائیگی شرعاً لازم و ضروری ہوتی ہے، محض سائلہ کے والدِ مرحوم کی بتائی گئی ترتیب کی وجہ سے اس واجب الأداء رقم کو اس بیٹے کو گھر دینے کے بدلے اس کے ذمہ لازم نہیں، بلکہ اس قرض کی ادائیگی تقسیمِ ترکہ سے قبل ہوگی،تاہم اگر سائلہ کا بھائی اپنے والد سے کیے ہوئے معاہدہ یا گھر کی مالیت زیادہ ہونے کی وجہ سے اپنی مرضی و خوشی سے اپنے والدِ مرحوم کے ذمہ واجب الأداء قرض مرحوم کے ترکہ میں سے ادا کرنے کے بجائے خود ادا کرنا چاہتا ہو تو ایسا کرنا بھی شرعاً جائز ودرست ہے، اوران شاء اللہ یہ اس کیلئے باعثِ اجر و ثواب بھی ہوگا۔
وفی الھندیۃ: ومنھا أن یکون الموھوب مقبوضا حتی لایثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض إلخ( کتاب الھبۃ، ج: 4، ص: 374، ط: ماجدیۃ )۔
وفیھا أیضا: ومن جملۃ شرائطھا قبض الموھوب لہ قبل موت الواھب کذا فی المحیط إلخ( کتاب الھبۃ، الباب العاشر فی ھبۃ المریض، ج: 4، ص: 400، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار: (أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه إلخ(کتاب الصلح، فصل فی المخارج، ج: 5، ص: 642، ط: سعید)۔
وفی العقود الدریۃ: (سئل) فيما إذا مات رجل عن زوجة وعن أخوين شقيقين وخلف عقارا تحت يد الأخوين فصالحا الزوجة عن حصتها من العقار وأخرجاها من ذلك بمبلغ معلوم من الدراهم دفعاه لها مع مؤخر صداقها المعلوم لها عليه (إلی قولہ) (الجواب) : نعم وذكر شمس الإسلام التخارج لا يصح إذا كان على الميت دين أي يبطله رب الدين؛ لأن حكم الشرع أن يكون الدين على جميع الورثة بزازية من السادس في صلح الأب والوصي وفيها من المحل المرقوم قال قلت للثاني ما قولك فيمن مات عن ابنين، وديون له وعليه، وأرضين صالح أحدهما الآخر على مبلغ معلوم على أن الدراهم التي كانت لأبيهم بينهما على حالها والذي على أبيهم هو له ضامن وهو كذا درهما قال الصلح جائز وإن لم يسم ما عليه من الدين فالصلح باطل. اهـ. ففي المسألة المفتى بها له دين إلخ(کتاب الصلح، ج: 2، ص: 63، ط: دار المعرفۃ)۔
وفی البحر الرائق: قال رحمه الله (يبدأ من تركة الميت بتجهيزه) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه، (إلی قولہ) قال رحمه الله (ثم بدينه) لقوله تعالى {من بعد وصية توصون بها أو دين} [النساء: 12] قال علي كرم الله وجهه إنكم تقرءون الوصية مقدمة على الدين، وقد شهدت «النبي صلى الله عليه وسلم قدم الدين على الوصية» ولأن الدين واجب ابتداء والوصية تبرع والبداءة بالواجب أولى والتقديم ذكرا لا يدل على التقديم فعلاإلخ(کتاب الفرائض، ج: 8، ص: 489، ط: ماجدیۃ)۔