اگر باپ یا ماں کی صرف ایک ہی اولاد ہو، وہ بیٹی ہو، اور والدین اپنی زندگی میں اپنی جائیداد بیٹی کو ہِبہ (تحفہ) میں دے دیں، تو کیا یہ جائز ہے اور کیا والدین گناہ گار ہوں گے؟
واضح ہوکہ اگر مذکور والدین بیٹی کو ہبہ (تحفہ) کرکے باقاعدہ اس جائیداد پر مالکانہ حقوق و قبضہ بھی دیدیں ،تو شرعاً یہ جائز ہے، اور اس میں کوئی گناہ نہیں،البتہ محض کاغذات میں نام کرواکر زندگی میں اس جائیداد پر قبضہ و مالکانہ تصرفات کا حق نہ سونپنے کی صورت میں وہ ہبہ تام نہ ہوگا،اور اسی حالت میں والدین کے انتقال کی صورت میں وہ جائیداد مرحومین کا ترکہ بن جائیگا، جس میں مذکور بیٹی کے علاوہ مرحومین کے عصبات بھی بطورِ وارث شریک ہوجائیں گے،لہٰذا ہبہ کے ساتھ باقاعدہ قبضہ کا بھی اہتمام چاہیئے۔
کمافی الدرالمختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل(کتاب الھبۃ،ج:5،ص :690، م: سعید)
وفی الشامیۃ: وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا (الی قولہ) ولو وهب في صحته كل المال للولد جازاھ(کتاب الھبۃ ،ج:5،ص:696،م:سعید)
وفیھاایضاً: أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه(مطلب فی المصادقۃ علی النظر،ج:4ص:444،م:سعید)
وفی الھندیۃ: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض(کتاب الھبۃ،ج:4،ص:374،م:ماجدیۃ)