بیع مصراۃ کا حکم شرعاً ناجائز ہے، لیکن عام طور پر بیع اسی طرح ہوتی ہے، اب اگر کوئی شخص دودھ تھنوں میں جمع نہ کرے تو بھی خریدنے والا یہی سمجھ کر قیمت وغیرہ لگاتا ہے کہ یہ دودھ تھنوں میں کچھ دنوں کا جمع کیا ہوا ہے۔ تو کیا اس کے جواز کی کوئی صورت بحالتِ مجبوری جائز ہے؟
واضح ہوکہ ”بیعِ مُصَرّاة“ چونکہ شرعاً ناجائز اورحرام ہے،لہٰذا محض عرف یا مارکیٹ کے چلن کی بنیاد پر، یا مبینہ مجبوری کے نام پر، اس کو جواز فراہم کرنے کی صورتیں تلاش کرنادرست نہیں ،کیونکہ شریعت میں مجبوری (ضرورت یا اضطرار) اسی وقت معتبر ہوتی ہے، جب حرام سے بچنے کی کوئی اور صورت ممکن نہ ہو،چونکہ عام تجارتی دباؤ، مارکیٹ کا رواج، یا نفع میں کمی کا خدشہ شرعی مجبوری نہیں ہے۔ اس لیےبیعِ مُصَرّاة یا اس کے مشابہ تدلیسی صورتوں کوبحالتِ مجبوری بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کما فی الشامیۃ: تحت (قوله: بخلاف الشاة المصراة) روي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (لاتصروا الإبل والغنم فمن ابتاعھا بعد ذلك فھو بخير النظرين بعد أن يحلبھا، فإن رضيھا أمسكھا، وإن سخطھا ردها وصاعا من تمر) متفق عليه شرح التحرير وتصروا بضم التاء وفتح الصاد من التصرية وهي ربط ضرع الناقة أو الشاة وترك حلبھا اليومين أو الثلاثة حتى يجتمع اللبن قال الشارح في شرحه على المنار وهو مخالف للقياس الثابت بالكتاب والسنة والإجماع من أن ضمان العدوان بالمثل أو القيمة والتمر ليس منھما فكان مخالفا للقياس ومخالفته مخالفة للكتاب والسنة وإجماع المتقدمين فلم يعمل به لما مر، فيرد قيمة اللبن عند أبي يوسف وقال أبو حنيفة ويرجع على البائع بأرشھا اهـ۔ وفي شرح التحرير: وقد اختلف العلماء في حكمھا فذهب إلى القول بظاهر الحديث الأئمة الثلاثة أبو يوسف على ما في شرح الطحاوي للإسبيجابي نقلا عن أصحاب الأمالي عنه والمذكور عنه للخطابي وابن قدامة أنه يردها مع قيمة اللبن ولم يأخذ أبو حنيفة ومحمد به؛ لأنه خبر مخالف للأصول اهـ ۔
والحاصل كما في الحقائق أنه إذا اشتراها فحلبھا فوجدها قليلة اللبن ليس له أن يردها عندنا: وعند الشافعي وغيره له أن يردها مع اللبن لو قائما ومع صاع تمر لو هالكا، وهل يرجع بالنقصان عندنا: فعلى رواية الأسرار لا وعلى رواية الطحاوي نعم. قال في شرح المجموع: وهو المختار؛ لأن البائع بفعل التصرية غر المشتري فصار كما إذا غره بقوله إنھا لبون إلخ۔(مطلب فی مسئلۃ بیع المصراۃ، ج 5، ص 44، ط: سعید)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1