کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مؤدبانہ گزارش ہے کہ محترمہ .... کھوکھر دختر ..... شناختی کارڈ نمبر.......نے صحت کی حالت میں اپنی بھتیجی .... شناختی کارڈ نمبر....زوجہ ..... بلوچ سکنہ .... کلفٹن روڈ کراچی کو سب (حصہ دار)کو بلاکر ایک میٹنگ رکھی،جس میں انہوں نے اپنی بھتیجی .... کو مذکورہ فلیٹ دینے کا اعلان کیا،اور مکمل قبضہ دے کر.... کے حوالے کردیا،.... سن 2000 سے اب تک اسی گھر میں رہائش پذیر ہے،اور کسی بھی قسم کا کسی فرد کو کوئی اعتراض نہیں ہے،کیا شرعی طور پر ..... اس کی حق دار ہے؟..... کھوکھر نے2001میں مکمل قبضہ دیا،اور تقریباًسات سال زندگی میں .... اس فلیٹ میں رہائش پذیر رہی،اور اب ان کی وفات کے بعدبھی اس فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں۔
صورتِ مسؤلہ میں مسماۃ..... کھوکھر نے اگر واقعۃً اپنی صحت والی زندگی میں تمام حصہ داروں کے سامنے مذکورہ فلیٹ اپنی بھتیجی مسماۃ .... کو باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ دینے کا اعلان کردیاہو،اور مسماۃ ....نے .... کھوکھر کی زندگی میں ہی اس فلیٹ پرقبضہ کرکے اس میں رہائش اختیار کرلی ہو(جیسا کہ سوال کی نوعیت سے بھی واضح ہورہا ہے)تو ایسی صورت میں مسماۃ .... اس فلیٹ کی شرعاً مالک بن چکی تھی ، لہذا مذکور فلیٹ میں..... کھوکھر کے ورثاء کا حصہ داری کا دعوی کرناشرعاً درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح.(وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء.(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ الخ،(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،وإن شاغلا لا اھ (5/590)۔
وفی بدائع الصنائع: (فصل) :وأما حكم الهبة فالكلام فيه في ثلاث مواضع في بيان أصل الحكم وفي بيان صفته وفي بيان ما يرفع الحكم.
أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض لأن الهبة تمليك العين من غير عوض فكان حكمها ملك الموهوب من غير عوض اھ (6/127)۔