کسی غریب بچی کے لئے زیور لے کر رکھا تھااس کو دینے کی نیت سے شادی میں ، پھر اس بچی کا انتقال ہوگیا ہے شادی ہونے سے پہلے، اب اس زیور کا حقدار کون ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر سائل نے یہ زیور مذکور غریب بچی کو بطور گفٹ دینے کی نیت سے رکھا ہو،اسے مالکانہ قبضہ و تصرف کے ساتھ اس کے حوالہ نہ کیا ہو، تو چونکہ یہ زیور اب تک سائل ہی کی ملکیت ہے، اس بچی کے انتقال کے بعد بھی سائل ہی اس زیور کا حقدار ہے، وہ آئندہ اس میں جس طرح تصرف کرنا چاہے کر سکتا ہے۔
کما فی الھندیۃ: و منھا ان یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ (کتاب الھبۃ، ج: 4، ص: 374، ط: ماجدیۃ)۔
و فی التاتارخانیۃ: و فی الکافی: لا یثبت الملک فی الھبۃ بالعقد قبل القبض عندنا الخ (کتاب الھبۃ، ج: 14، ص: 421، ط: رشیدیۃ)۔