السلام علیکم ،میرےبھائی کے سالے (brother in law) نے میری والدہ کو دیگر عزیزوں کی موجودگی میں یہ کہہ کر کے "آپ میری ماں ہے،میں آپ کو آپ کے بیٹے کی حیثیت سے یہ بھینس تحفہ دیتا ہوں ،اس بھینس سے یا اس کے آگے نسل سے میرا یا میری اولاد کا کوئی تعلق نہیں ،آپ اس کو رکھیں ،بیچیں یا کسی کو دیں یا جو مرضی کریں، میرا یا میری اولاد کا یا میرے بہن بھائی کا کوئی تعلق نہیں ،میں اپنی ماں کو تحفہ دے رہا ہوں ،میری والدہ نے وہ بھینس مجھے دےدی ،بعد آزاں والدہ کی وفات کے کچھ عرصہ بعد تقاضہ شروع کردیا ،اب سوال یہ ہے کہ کیا ان کایہ تقاضا درست ہے ؟ اور میرا ان کو بھینس واپس کرنا لازم ہے؟مزید یہ کہ جب مجھے ملی تو وہ بھینس ساتویں دفعہ بچہ دے چکی تھی ،اور اب وہ کہہ رہےہیں کہ مجھے پہلی دفعہ بچہ دئیے ہوئی بھینس دیں ،کیا شرعا میں ان کو بھینس واپس کرنے کا پابند ہوں ؟اور ان کا تقاضہ درست ہے؟کہ دیا ہوا تحفہ واپس مانگ رہےہیں
واضح ہو کہ موہوب لہ اگر فوت ہوجائے ،یا موہوبہ چیز وہ دوسرے کو ہبہ کردے ،تو ایسی صورت میں واہب کو موہوبہ چیز میں رجوع کا حق نہیں رہتا ،لہذا مسئولہ صورت میں سائل کی والدہ کو اگر سائل کے بھائی کے سالے نے مذکورہ بھینس تحفہ میں باقاعدہ مالکانہ قبضہ کیساتھ دیدی تھی ،جیساکہ سوال میں مذکور ہے،تو ایسی صورت میں سائل کی والدہ مرحومہ نے اگر اپنی صحت والی زندگی میں سائل کو مذکورہ بھینس باقاعدہ مالکانہ قبضے کیساتھ گفٹ کردی تھی اور ان کا انتقال بھی ہوگیا ،تو ایسی صورت میں سائل کے بھائی کے سالے کیلئے اب سائل سے اس بھینس کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الھدایۃ: "أو يموت أحد المتعاقدين"؛ لأن بموت الموهوب له ينتقل الملك إلى الورثةفصار كما إذا انتقل في حال حياته، وإذا مات الواهب فوارثه أجنبي عن العقد إذ هو ما أوجبه.أو تخرج الهبة عن ملك الموهوب له"؛ لأنه حصل بتسليطه فلا ينقضه، ولأنه تجدد الملك بتجدد سببه(باب الرجوع فی الہبۃ ،ج:3،ص:226 ،ط:دارالتراث العربی)