مفتی صاحب! ہیرو موٹر سائیکل والے قسطوں پر موٹر سائیکل دے رہے ہیں اور پانچ ہزار روپے اصل قیمت سے زیادہ لے رہے ہیں ،کیا یہ موٹر سائیکل ہم خرید سکتے ہیں؟ یہ سود تو نہیں ہے؟
قسطوں پر موٹر سائیکل یا کوئی دوسری گاڑی ، مکان ، وغیرہ نقد کے مقابلہ میں کچھ زائد قیمت پر خرید نا درجِ ذیل چند شرائط کے ساتھ بلا شبہ جائز اور درست ہے:
وہ شرائط یہ ہیں: (۱) اول یہ کہ عقد کے وقت نقد یا ادھار لینے کا معاملہ طے کیا جائے، (۲)اور کل قیمت بتانے کے بعد، کل قسطیں اور ہر قسط کی مقدار بھی متعین کرلی جائے، (۳)اور اگر کسی وجہ سے کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہو جائے تو اس پر کچھ جرمانہ وغیرہ بھی وصول نہ کی جائے ورنہ یہ عقد شرعاً بھی جائز نہیں رہے گا۔
ففي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد (إلی قوله) وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1