*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
میرا نام [مجاہد] ہے۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک دن میں اپنی بیوی سے ناراض تھا اور سخت غصے میں تھا۔ اُس دوران میں نے کہا:
*"اللہ کی قسم، اگر تم نے مجھ سے دوبارہ بحث کی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا بلکہ اگر تم نے بحث کی تو تم مجھ پر طلاق ھو گی"*
۔ میں نے یہ بات غصے میں، جذباتی حالت میں کہی اور اب مجھے شدید پریشانی لاحق ہے۔ میں بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہتا اور نہ ہی دل سے طلاق دینا چاہتا ہوں۔
براہِ کرم مجھے قرآن و سنت کی روشنی میں فتویٰ دیا جائے کہ میرے ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور اگر یہ قسم شمار ہوتی ہے تو اس کا کفارہ کیا ہوگا؟
جزاکم اللہ خیرا
صورت مسؤلہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو مذکور دوسرا جملہ " اگر تم نے بحث کی تو تم مجھ پر طلاق ہوگی " کہہ دیا تو اس سے یہ تعلیق منعقد ہوکر سائل کی بیوی پر ایک طلاق معلق ہوچکی ہے بشرطیکہ سائل نے یہ جملہ ایک بار ہی کہا ہو چنانچہ اس کے بعد سائل کی بیوی جب کبھی اس سے جھگڑا و بحث کرے گی تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائیگی جس کے بعد سائل کو عدت سے رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا ۔چنانچہ اگر سائل دوران عدت منہ زبانی رجوع کے الفاظ جیسے میں رجوع کرتا ہوں کہہ کر یا بیوی سے میاں بیوی والا تعلق قائم کرکے یا اسے شہوت سے چھولیتا ہے تو اس سے رجوع درست ہوکر دونوں کا نکاح حسب سابق برقرار رہے گا البتہ اگر سائل نے عدت میں رجوع نہ کیا تو عدت گزرنے سے دونوں میاں بیوی کا نکاح بالکلیہ ختم ہوجائے گا جس کے بعد بیوی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی البتہ اگر عدت گزرنے کے بعد بھی دونوں ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لیئے گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرکے دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا بہر دو صورت سائل کو آئندہ کے لیئے فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا ۔ اس لیئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے
کما فی الدر المختار : ( و تنحل ) الیمین ( بعد ) وجود ( الشرط مطلقا ) لکن ان وجد فی الملک طلقت و عتق والا لا ( باب التعلیق ، ج : 3 ، ص : 355 ، ط : سعید )
و فی التاتارخانیہ : ولو قال لھا ان شتمتنی فانت طالق فقالت لہ : ای سیاھہ فھذا شتم عرفا : وان کان لا یجب بہ الحد فتطلق بحکم العرف ، و فی الحاوی : ولو قال " ان قذفتنی فانت طالق " فقالت یا ابن الزانیۃ " لا یحنث ، قال الفقیہ : لکن فی زماننا یحنث ( باب الطلاق ، ج : 5 ، ص : 72 ، ط : رشیدیۃ )
و فی الھدایہ : اذا طلق الرجل امراتہ تطلیقۃ فلہ اں یراجعھا فی عدتھا ( ج : 2 ، ص359،کتاب الطلاق )
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0