کیا یہ حلال ہے اگر میں کسی ویب سائٹ سے کچھ مواد خرید کر اس مواد کو اپنی ایپ میں ڈالوں اور پھر فروخت کروں؟
واضح ہو کہ خرید و فروخت کے شرعاً جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے، وہ اسکی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو ، اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے تو بیع درست نہیں ہوتی، بلکہ باطل اور کالعدم شمار ہوتی ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں مذکور مواد خریدنے کے بعد اگر حسی طور پر اس مواد کا قبضہ وملکیت سائل کو منتقل ہوجاتی ہو بایں طور کہ اس چیز کے تمام قانونی حقوق سائل کو حاصل ہوجاتے ہوں تو اس صورت میں اس مواد کو اپنی ایپ کے ذریعے دیگر افراد کو بیچنا جائز ہوگا ،لیکن اگر اس قسم کا حسی قبضہ متحقق نہ ہوتا ہو تو اس چیز کو آگے بیچنے سے احتراز چاہیے۔
کما فی سنن الترمذی: عن حكيم بن حزام، قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يأتيني الرجل، فيسألني من البيع ما ليس عندي، أبتاع له من السوق ثم أبيعه منه؟ قال: "لا تبع ما ليس عندك،( باب ما جاء في كراهية بيع ما ليس عنده،ج: 3،ص: 86،رقم الحدیث: 1276، مط: دار الرسالۃ العالمیہ۔)
و فی فقہ البیوع : ویشترط لانعقاد البیع ان یکون المبیع مملوکاً للبائع،فبیع مالایملکہ البائع باطل اھ،(باب احکام المبیع وما یشترط فیہ لصحۃ البیع،ج: 2،ص: 1115،مط: معارف القراٰن۔)
و فی الفقہ علی المذاھب الاربعۃ: بيع ما لم يملكه البائع فإذا باع شيئاً لا ولاية له عليه بوجه من الوجوه كان بيعه باطلاً اھ،( مبحث التصرف في المبيع قبل قبضه،ج: 2،ص: 217،مط: دارالکتب العلمیہ۔)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1