ایک شخص نے غلطی سے کسی کو ایک قیمتی تحفہ دیا ، بعد میں علم ہوا کہ یہ تحفہ قیمتی تھا اور معمولی سمجھ کر دیا تھا ، اب یہ شخص اس تحفے کو واپس لینا چاہتا ہے ، کیا حکم ہے؟
کسی کو کوئی چیز ہبہ (گفٹ) کر کے واپس لینا شرعاً مکروہ عمل ہے اور اس گفٹ کا تبادلہ اگر میاں بیوی یا کسی ذی رحم محرم رشتہ داروں کے درمیان ہو تو پھر یہ رجوع شرعاً جائز ہی نہیں ہوگا، اس لئے اگرچہ سائل نے اس چیز کومعمولی سمجھ کر گفٹ کردیا ہو ، لیکن جب اسے گفٹ کرکے باقاعدہ اس شخص کو حوالہ کردیا ، تو اب اسے واپس لینا شرعاً مناسب نہیں ، اس سے اجتناب چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: (صح الرجوع فيها بعد القبض) أما قبله فلم تتم الهبة (مع انتفاع مانعه) الآتي (وإن كره) الرجوع (تحريما) وقيل: تنزيها نهاية الخ (کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: 698، ط: سعید)۔
و فی التاتارخانیۃ: و فی الفتاوی العتابیۃ: الرجوع فی الھبۃ مکروہ فی الأحوال کلھا، و یصح الخ (الفصل الخامس فی الرجوع فی الھبۃ، ج: 14، ص: 448، ط: رشیدیۃ)۔
و فیھا ایضاً: و فی الزاد: و إن وھب ھبۃ لذی رحم محرم فلا رجوع فیھا، الخ (الفصل الخامس فی الرجوع فی الھبۃ، ج: 14، ص: 448، ط: رشیدیۃ)۔