کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیاں عظام شرع دین متیین کے روسے
میں نے ایک گاڑی خریدی قسطوں پر چند مہینوں کے بعد پھر قسطوں میں بیچ دی ،اب صورت مسئلہ یہ ہے کہ مالک اول کہتے ہیں میری جتنی قسط بنتی ہیں ،اس میں سے آدھی قسطیں مجھے نقد دیدو تو گاڑی ، کاغذات ،نمبر پلیٹ اور ٹرانسفر لیٹر آپکے حوالہ کردونگا
آگے آپ جانے ،قسط اور گاڑی کے مالک آپ ہونگے
راہنمائی فرمائیں آپ کا ممنون اور مشکور ہوں ۔
صورت مسؤلہ میں مالک اول نے قسطوں کی ادائیگی کے لیے جو مدت مقرر کی تھی اگر وہ باقی ہو ، تو مالک اول کا سائل سے بقیہ رقم میں سے آدھی رقم کی جلدی ادائیگی پر بقیہ قسطوں کی معافی کو مشروط کرنے کا معاملہ کرنا شرعا جائز نہیں ، بلکہ ناجائز وحرام ہے ، جس سے احتراز لازم ہے ، لیکن اگر سائل اپنی مرضی سے اس کی بقیہ مکمل رقم جلدی ادا کردے ،جو کہ اس پر شرعا لازم نہیں ، اور پھر مالک اپنی مرضی سے بغیر کسی شرط اور التزام کے اس میں سے کچھ رقم سائل کو واپس کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن مشروط معاملہ شرعا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی الھدایہ : ولو كانت له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لم يجز" لأن المعجل خير من المؤجل وهو غير مستحق بالعقد فيكون بإزاء ما حطه عنه، وذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام ( باب الصلح فی الدین ، ج : 3 ، ص : 256 ، ط : رحمانیہ )
و فی فقہ البیوع : ولکن لما تعین الثمن ، فان کلہ مقابل للمبیع و لیس مقابلا للاجل ، ولذا لا یجوز " ضع و تعجل " اھ
و فیہ ایضا : و مما یتعامل بہ بعض التجار فی الدیون المؤجلہ انھم یسقطون حصۃ من الدین بشرط ان یعجل المدیون باقیہ قبل حلول الاجل مثل : ان یکون لزید علی عمرو الف ، فیقول زید : عجل لی تسعمئۃ ، وانا اضع عنک مئۃ ، وان ھذہ المعاملۃ معروفۃ فی الفقہ باسم " ضع و تعجل " وھذا التعجیل ان کان مشروطا بالوضع من الدین فان المذاھب الاربعۃ متفقۃ علی عدم جوازہ ( ج : 1 ، الباب الخامس ،المسئلۃ : 251 ، ص : 532 ، ط : معارف القرآن )
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1