خرید و فروخت

پرانا مال نئے ریٹ کے ساتھ فروخت کرنا

فتوی نمبر :
91049
| تاریخ :
2026-01-17
معاملات / مالی معاوضات / خرید و فروخت

پرانا مال نئے ریٹ کے ساتھ فروخت کرنا

السلام علیکم! میرا میڈیسن کا کام ہے، اس وقت ہر کچھ ماہ میں میڈیسن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ تو کیا مجھے پرانی قیمت پر خریدا گیا مال نئے ریٹ پر بیچنا جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ میں تاجر کو اس بات کا پابند نہیں کیا گیا کہ وہ مال اسی قیمت پر بیچے جس پر اس نے خریدا تھا، بلکہ وہ بازار کے رائج نرخ، وقت اور حالات کے مطابق قیمت مقرر کرسکتاہے، اس لئے خریدوفروخت میں اصل اعتبار مال کی سابقہ لاگت کی بجائے باہمی رضامندی اور طے شدہ قیمت کا ہوتا ہے۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اگرسائل نے دوا پرانی (کم) قیمت پر خریدی ہو اور بعد میں مارکیٹ میں دوا کی عمومی قیمتیں بڑھ چکی ہوں، تو سائل کا اس دوا کو نئے رائج ریٹ پر فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ قیمت خریدار کو واضح طور پر بتائی جائے، خریدار اپنی رضامندی سے خریدے، دھوکا، جھوٹ، ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری نہ ہو، سرکاری طور پر مقرر کردہ قیمت(اگر لازم ہو) کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔ البتہ اخلاقی اعتبار سے ضروری ادویات میں حد سے زیادہ منافع لینا، یا مریض کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے، جس سے بہرصورت اجتناب برتنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی سنن أبی داود:عن أنس: قال الناس: (يا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - غلا السعر ‌فسعر ‌لنا، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إن الله هو المسعر، القابض الباسط الرازق، وإني لأرجو أن ألقى الله عز وجل وليس أحد منكم يطالبني بمظلمة في دم ولا مال)۔ الحدیث۔(باب في التسعير،ج:5،ص:322،رقم الحديث:3451،ط:دار الرسالة العالمية)۔
وفی الھندیۃ: ومن اشترى شيئًا وأغلى في ثمنه فباعه مرابحة على ذلك جاز وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - إذا زاد زيادة لايتغابن الناس فيھا فإني لاأحب أن يبيعه مرابحة حتى يبين إلخ۔ (الباب المرابحۃ والتولیۃ والوضعیۃ، ج 3، ص 158، ط: دار الفکر)۔
وفی مجلۃ الأحکام العدلیۃ: الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقاً للقيمة الحقيقية أو ناقصاً عنھا أو زائداً عليھا إلخ۔ (الكتاب الأول في البيوع، ‌‌المقدمة: في بيان الاصطلاحات الفقهية المتعلقة بالبيوع، المادۃ: 153،ص 33، ط: نور محمد)۔
وفی الدر المختار: (ولا يسعر حاكم) لقوله - عليه الصلاة والسلام – (لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق) (إلا إذا تعدى الأرباب عن القيمة تعديا فاحشا فيسعر بمشورة أهل الرأي) وقال مالك: على الوالي التسعير عام الغلاء وفي الاختيار ثم إذا سعر وخاف البائع ضرب الإمام لو نقص لا يحل للمشتري وحيلته أن يقول له: بعني بما تحب ولو اصطلحوا على سعر الخبز واللحم ووزن ناقصا رجع المشتري بالنقصان في الخبز لا اللحم لشھرة سعره عادة۔
قلت: وأفاد أن التسعير في القوتين لا غير وبه صرح العتابي وغيره، لكنه إذا تعدى أرباب غير القوتين وظلموا على العادة فيسعر عليھم الحاكم بناء على ما قال أبو يوسف: ينبغي أن يجوز ذكره القھستاني فإن أبا يوسف يعتبر حقيقة الضرر كما تقرر فتدبر إلخ۔ ( ج 6، ص ،399، ط:سعید)۔
وفی الشامیۃ: تحت (قوله ولا يسعر حاكم) أي يكره ذلك كما في الملتقى وغيره (قوله لا تسعروا) قال شيخ مشايخنا العلامة إسماعيل الجراحي في الأحاديث المشتھرة: قال النجم هذا اللفظ لم يرد لكن رواه أحمد والبزار وأبو يعلى في مسانيدهم وأبو داود والترمذي وصححه وابن ماجه في سننه عن أنس - رضي الله تعالى عنه - قال (قال الناس: يا رسول الله غلا السعر فسعر لنا فقال: إن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق وإني لأرجو أن ألقى الله وليس أحد منكم يطالبني بمظلمة في دم ولا مال) وإسناده على شرط مسلم وصححه ابن حبان والترمذي اهـ (قوله الرازق) كذا في أغلب النسخ وفي نسخة: الرزاق على صيغة فعال، وهو الموافق لما قدمناه (قوله تعديا فاحشا) بينه الزيلعي وغيره بالبيع بضعف القيمة ط (قوله فيسعر إلخ) أي لا بأس بالتسعير حينئذ كما في الھداية (قوله على الوالي التسعير) أي يجب عليه ذلك كما في غاية البيان الخ۔ (ج 6، ص 399، ط:سعید)۔
وفیھا أیضاً: تحت (قوله: هو ما لا يدخل تحت تقويم المقومين) هو الصحيح كما في البحر، وذلك كما لو وقع البيع بعشرة مثلا، ثم إن بعض المقومين يقول إنه يساوي خمسة، وبعضھم ستة وبعضھم سبعة فھذا غبن فاحش؛ لأنه لم يدخل تحت تقويم أحد بخلاف ما إذا قال بعضھم: ثمانية وبعضھم تسعة وبعضھم: عشرة فھذا غبن يسير إلخ۔(کتاب البیع، باب الربا، ج:5، ص:143، ط:ایچ ایم سعید)۔
وفی البحر الرائق: (ولا يسعر السلطان إلا أن يتعدى أرباب الطعام عن القيمة تعديا فاحشا) لقوله - عليه الصلاة والسلام - (لا تسعروا فإن ﷲ هو المسعر القابض الباسط الرازق) ولأن الثمن حق البائع وكان إليه تقديره فلا ينبغي للإمام أن يتعرض لحقه إلا إذا كان أرباب الطعام يحتكرون على المسلمين ويتعدون في القيمة تعديا فاحشا وعجز السلطان عن منعه إلا بالتسعير بمشاورة أهل الرأي والنظر(إلی قولہ) والغبن الفاحش هو أن يبيعه بضعف قيمته إلخ۔ (ج 8، ص 230، ط: ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91049کی تصدیق کریں
0     190
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • بٹ کوئین کی خریدوفروخت کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 5
  • اسمگل شدہ چیزوں کی خرید و فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   خرید و فروخت 1
  • اسٹاک مارکیٹ میں ڈے ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 1
  • پھل تیارہونے سے پہلے باغ کی خریدوفروخت کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 0
  • پولیس کے پکڑے ہوئے مال کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   خرید و فروخت 0
  • قادیانی سے خرید و فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 0
  • پھلوں کے پک جانے سے قبل خریدوفروخت

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 0
  • کرکٹ میچ یا دیگر کھیلوں کے ٹکٹ بلیک میں بیچنا

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 1
  • چالیس کلو گندم کی خریداری پر دو کلو کٹوتی کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 0
  • دوکاندار کا تول میں زیادہ کر کے بیچنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   خرید و فروخت 1
  • سونے کو نقد رقم کے عوض ادھار پر زیادہ قیمت میں دینا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 2
  • نفع کی غرض سے سونا لے کر رکھنا اور سونے کی خریدفروخت

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • اسٹیٹ ایجنسی یعنی پراپرٹی کا کاروبار کرنا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 1
  • پارسل ڈیلیور نہ ہونے کی وجہ سے اپنا اماؤنٹ واپس لینا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • غیر مسلم کو ٹی وی بیچنا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • ٹی وی خریدنا ، بیچنا اور دیکھنا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • قسطوں پر کار لیکر نقد پر فروخت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • گابھن جانور کے خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 1
  • قادیانی کمپنی کی مصنوعات کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • عورتوں کے لباس کی خریدو فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • ادھار پر خریداری کے بعد ،وقت سے پہلے رقم کی ادئیگی پر قیمت میں کمی کرنا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • عاریت کی زمین کو فروخت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • ایک چیز کی دو قیمت بتانے سے خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • دکان فروخت کرنے کے بعد قیمت کی وصولی سے قبل خریدار سے کرایہ لینا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
Related Topics متعلقه موضوعات