محترم جناب مفتی صاحب!
گھر میں نماز ادا کرنے کی صورت میں خصوصاً عورتوں کے لۓ اذان دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ جہاں تک مجھے معلوم ہے مردوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی صورت میں اذان سے منع کیا گیا ہے ، لیکن عورت کے لۓ یہ حکم نہیں ، کیا یہ صحیح ہے؟ آج کل میرا معمول یہ ہے کہ کمپیوٹر سے جب اذان سنتی ہوں ، تو نماز پڑھنے لگتی ہوں، کیا عورت اپنے گھر میں تنہا نماز پڑھ رہی ہو تو نماز شروع کرنے سے پہلے کچھ پڑھنا چاہیۓ یا دورانِ اذان و اقامت نماز ادا کرنی چاہیۓ ؟ اسی طرح اذان کے بعد درود شریف اور دعا پڑھنا لازمی ہے؟ یا نماز کا وقت داخل ہونے پر ویسے ہی نماز شروع کرنی چاہیۓ جب کہ اذان دینے کے لۓ کوئی موجود نہ ہو ؟
واضح ہو کہ اذان و اقامت کا حکم مردوں کے لۓہے نہ کہ عورتوں کے لۓ ، لہٰذا دخولِ وقت کے بعد ، اگر متعلقہ مسجد میں بھی اذان نہ ہوئی ہو جب بھی نماز کی ادائیگی بلاشبہ جائز اور درست ہے، جبکہ متعلقہ مسجد کی اذان کا بغور سننا اور اس کا جواب دینا ضروری ہے ، اور اس اذان کے بعد نماز پڑھنا بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
فی الدر المختار : (و لا يسن) ذلك (فيما تصليه النساء أداء و قضاء) و لو جماعة كجماعة صبيان و عبيد اھ و فی حاشية ابن عابدين : (قوله: و لا يسن ذلك) أي الأذان و الإقامة اھ (1/ 391)۔
و فی حاشیة الطحطاوی : "ثم دعا" المجيب و المؤذن "بالوسيلة" بعد صلاته على النبي صلى الله عليه و سلم عقب الإجابة "فيقول" كما رواه جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم : من قال حين يسمع النداء "اللهم رب هذه الدعوة التامة و الصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة و الفضيلة و ابعثه مقاما محمودا الذي وعدته" حلت له شفاعتي يوم القيامة (۱/ ۱۱۱)۔