ہم 15 سال سے کرائے پر رہتے ہیں۔ اب بچے بڑے ہو رہے ہیں اور کرایہ بھی بہت بڑھ گیا ہے۔ کیا میرے شوہر بینک میں ملازمت کر کے وہاں سے قرض (لون) لے کر اپنا گھر لے سکتے ہیں؟ بینک میں ملازمت اس لیے تاکہ ان کو کم فیصد پر قرض کی ادائیگی کرنی پڑے۔
سوال میں ذکر کردہ غرض سے کسی سودی بینک میں نوکری کرنا اور پھر گھر کی خریداری کے لئے سودی قرض لینا ہر دو امور شرعا جائز نہیں ،البتہ اس ضرورت کی تکمیل کے لئے غیر سودی بینکوں سے ہوم فائنانس کی سہولت لینے کی گنجائش ہے۔
كما قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدة،آیت: 2)
و فی صحیح مسلم: عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء.ااھ( کتاب المساقات،ج:۳،ص: 1219، ط: دار احیاء التراث)
و فی مشكاة المصابيح "وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الربا سبعون جزءًا أيسرها أن ینکح الرجل أمه».( باب الربوا،ج:۱،ص:۲۴۶،ط؛ قدیمی)
و فی فقہ البیوع:السابع : أن يؤجر المرأ نفسه للبنك بأن يقبل فيه وظيفة. فإن كانت الوظيفة تتضمن مباشرة العمليات الربوية، أو العمليات المحرمة الأخرى، فقبول هذه الوظيفة حرام، وذلك مثل التعاقد بالربوا أخذاً أو عطاء، أو خصم الكمبيالات، أو كتابة هذه العقود، أو التوقيع عليها، أو تقاضى الفوائد الربوية، أو دفعها، أو قيدها في الحساب بقصد المحافظة عليها، أو إدارة البنك، أو إدارة فرع من فروعه، فإن الإدارة مسئولة عن جميع نشاطات البنك التي غالبها حرام.اھ(باب التعامل مع البنوک الربویۃ،ض:2،ص:1064،ط:معارف القرآن)