السلام علیکم ! میرے والد نے اپنی زندگی میں ہی پلاٹ کی فائل مجھے دی ہے ،یہ کہہ کر کہ اگر یہ پلاٹ مل جائے تو تمہارا ہے ،تو کیا ان کے انتقال کے بعد میرے بھائیوں کا کوئی حصہ ہوگا اس پلاٹ میں ؟
واضح ہو کہ ھبہ کی صحت ودرستگی کے لیے ضروری ہے کہ ھبہ کی گئی چیز پر، جسے ھبہ کی گئی ہو ،اسے مکمل قبضہ وتصرف کا اختیار بھی دیا جائے ،ورنہ فقط کاغذات میں نام کرنے سے یہ ہبہ درست نہیں ہوتا ، لہذا صورت مسؤلہ میں سائلہ کے والد کا اپنی زندگی میں سائلہ کو باقاعدہ پلاٹ پر قبضہ دئیے بغیر محض فائلیں حوالہ کرنے سے یہ پلاٹ سائلہ کی ملکیت شمار نہ ہوگی، بلکہ یہ بدستور سائلہ کے والد کی ہی ملکیت کہلائے گی ،جو ان کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم کرنا ضروری ہوگا ۔
کما في الهداية شرح البداية: الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام تهادوا تحابوا وعلى ذلك انعقد الإجماع وتصح بالإيجاب والقبول والقبض أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد والعقد ينعقد بالإيجاب والقبول والقبض لا بد منه لثبوت الملك اھ، كتاب الهبة، (ج: 3،ص: 224،مط: بیروت۔)
و فی الھندیہ: "ومنها: أن يكون الموهوب مقبوضًا حتى لايثبت الملك للموهوب له قبل القبض،اھ،کتاب الھبہ، [الباب الأول تفسير الهبة وركنها وشرائطها وأنواعها وحكمها] (ج: 6،ص: 123،مط: دارالفکر بیروت ۔)
و فی البحر: لو قال جعلته باسمك لا يكون هبة ولهذا قال في الخلاصة لو غرس لابنه كرما إن قال جعلته لابني تكون هبة وإن قال باسم ابني لا تكون هبة،اھ،کتاب الھبہ،ج: 7،ص: 285،مط: دارالکتاب الاسلامی۔)