استفتاء
محترم مفتیانِ کرام / دارالافتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مؤدبانہ گزارش ہے کہ ایک شرعی مسئلہ پیش آیا ہے، جس میں آپ حضرات سے قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی مطلوب ہے۔ مسئلہ کی مکمل تفصیل درج ذیل ہے:
صورتِ مسئلہ:
یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی سے ایک سال پہلے کہا تھا،اگر تو میری والدہ سے بات کرےگی تو تو مجھ پر طلاق ہوگی، لیکن ابھی تک اس نے میری والدہ سے بات نہی کی ہے۔واضح رہے یہ الفاظ میں نے ایک دفعہ کہے ہیں۔اور میری بیوی کہتی ہے کہ تو نے تین طلاق کا لفظ استعمال کیا ہے ۔جبکہ شوہر کا بھائی بھتیجہ،اوربہن وبھابی کہتے ہیں کہ تو نے تین لفظ استعمال کیا تھا،اور شوہر کی ماں اور بڑی بھابی کا کہنا ہے کہ تو نے ایک دفعہ کا کہا ہے ۔
برائے مہربانی شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں کہ اب ھمارے لئے کیا حکم ہے۔
واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں سائل اور اسکی بیوی کے درمیان طلاق کی تعداد میں اختلاف ہو، اور عورت تین معلق طلاقوں کا دعویٰ کرے اور شوہر اس کے خلاف فقط ایک معلق طلاق کا اقرار کرے، جبکہ عورت کے پاس شرعی گواہ بھی موجود ہوں، (جیسا کہ مذکورہ سوال میں سائل کا بھائی، بھتیجا، بہن اور بھابھی وغیرہ،) تو بیوی کا قول معتبر ہوگا۔ لہٰذا صورت مسؤلہ میں جب سائل کی بیوی سائل کی والدہ سے بات کرے گی تو اس پر معلق تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی، جس کے بعد بغیر حلالۂ شرعیہ کے دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔
البتہ تینوں معلق طلاقوں سے بچنے کے لیے یہ تدبیر اختیار کی جا سکتی ہے کہ سائل اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے کر اپنی زوجیت سے الگ کر دے اور دورانِ عدت بیوی سائل کی ماں سے بالکل بات نہ کرے۔ پھر جب عدت ختم ہو جائے تو بیوی سائل کی ماں سے بات کرے، اس وقت چونکہ بیوی اس کے نکاح میں نہ ہوگی، اس لیے اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور مذکور شرط بھی پوری ہو جائے گی۔ اس کے بعد باہمی رضامندی سے باقاعدہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کر لے۔ تجدیدِ نکاح کے بعد دوبارہ والدہ سے بات چیت کرنے کی وجہ سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔ لیکن سائل کو آئندہ کےلئےدوطلاقوں کا اختیار ہوگا،اس لئے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط کی جائے۔
وفي فتح القدير: وكذا القصاص وما سوى ذلك من المعاملات: أي وكل ما سوى ذلك يقبل فيه رجلان أو رجل وامرأتان سواء كان الحق مالا أو لا كالنكاح والطلاق والوكالة والوصية ونحو ذلك كالعتق والرجعة والنسب.اھ(کتاب الشہادات ،ج:7 ص: 370 ناشر : شرکۃ مکتبۃ)
وفي حاشية ابن العابدين: (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها،اھ(مطلب في اختلاف الزوجين في وجود الشرط، ج : 3 ص": 355 ناشر : سعید)
وفي المبسوط للسرخسي: والطلاق عندنا بمنزلته، ولا يجوز أقل من ذلك حتى إذا شهد بالطلاق رجل وامرأة، أو شهد به أربع نسوة ليس معهن رجل لا تقبل؛ لأن الطلاق مما يطلع عليه الرجال، اھ(باب شہادۃ فی الطلاق، ج؛6 ص :149 ناشر دار المعرفہ)
وفیہ ایضاً: (قال): وإذا شهد شاهدان على رجل أنه طلق امرأته ثلاثا وجحد الزوج، والمرأة ذلك فرق بينهما؛ لأن المشهود به حرمتها عليه، والحل، والحرمة حق الله تعالى فتقبل الشهادة عليه من غير دعوى كما لو شهدوا بحرمتها عليه، والحل، والحرمة حق الله تعالى فتقبل الشهادة عليه بنسب أو رضاع أو مصاهرة،، اھ(باب شہادۃ فی الطلاق، ج؛6 ص:148 ناشر دار المعرفہ)
وفي الهندية : وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه،اھ(باب فی العمل بغالب الرأی ،ج:5 ص:313 ناشر : ماجدیہ)
وفی الھندیۃ : وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول له إلا إذا برهنت وما لا يعلم إلا منها فالقول لها في حقها،الخ ( الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ، ج:1 ص :422 ناشر المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
وفی فتح القدیر : ولو قال: نويت بهن واحدة فهو كما قال ديانة لاحتمال قصد التأكيد كأنت طالق طالق طالق لا قضاء لأنه خلاف الظاهر، وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه من نفسها إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه،الخ(فصل فی الطلاق قبل لدخول، ج:4 ص : 73 ناشر : شرکۃ مکتبۃ)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0