السلام علیکم:میرا میرے گھر میں اپنی بیوی کیساتھ ایک بات پر بات چیت چل رہی تھی کہ مسئلہ شدت کی صورت اختیار کرگیا اور بیوی اٹھ کر اندر کمرے میں چلی گئی، اندر برقعہ اوڑھ کر باہر جانے لگی تو میں نے بیوی سے کہا کہ اگر آپ دروازے سے باہر نکل گئی تو بات ہمیشہ کیلئے ختم اور ہمیشہ کیلئے آزاد ہواور وہ چلی گئی تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟اور اگر ہو ئی تو کیا کریں ؟جزاک اللّہ
صورتِ مسئولہ میں سائل کے یہ الفاظ کہ ”اگر آپ دروازے سے باہر نکل گئی تو بات ہمیشہ کے لیے ختم اور ہمیشہ کے لیے آزاد ہو“ جب بولے اور اس میں ان الفاظ ”بات ہمیشہ کے لیے ختم“ سے بھی طلاق کی نیت ہو اور بیوی اس کے بعد کسی اور کام میں لگے بغیر یا اپنے ارادے کو ترک کرکے آرام سے بیٹھے بغیر فوراً چلی گئی ہو تو اس صورت میں سائل کی بیوی پر دو طلاقِ بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہو گیا ہے، اب وہ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے سائل یا کسی بھی دوسرے شخص سے نکاح کرنے میں آزاد ہے، اور اگر ”ختم“ کے الفاظ میں طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو صرف ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی ہے جس کا حکم یہ ہے کہ دورانِ عدت (تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے پہلے) سائل رجوع کر سکتا ہے جب کہ عدت کے بعد اگر عورت راضی ہو تو تجدیدِ نکاح لازم ہوگا۔ اور اگر سائل کے یہ الفاظ بولنے کے بعد اس کی بیوی اس موقع پر فوراً جانے سے رک گئی ہو اور پھر اس کے بعد چلی گئی ہو تو اس صورت میں کوئی اور طلاق واقع نہیں شمار ہوگی اور نہ ہی نکاح ختم ہوگا، بلکہ دونوں بدستور میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔
كما في رد المحتار:فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي.(باب الكنايات،ج:،٣،ص:٢٩٩،ط:سعيد)
وفي الهنديه:الأصل أنه متى وصف الطلاق إن كان وصفا لا يوصف به الطلاق يلغو الوصف ويقع رجعيا مثل أن يقول أنت طالق طلاقا لم يقع عليك أو على أني بالخيار ومتى وصفه بصفة يوصف بها الطلاق فلا يخلو إما أن لا تنبئ عن زيادة كقوله أحسن الطلاق أو أفضله أو أسنه أو أجمله أو أعدله أو خيره أو تنبئ عن زيادة كقوله أشد الطلاق ونحوه فالأول رجعي والثاني بائن على أصولهم ولو قال أنت طالق أقبح الطلاق أو أفحشه أو أخبثه أو أسوأه أو أغلظه أو أشره أو أطوله أو أكبره أو أعرضه أو أعظمه ولم ينو شيئا أو نوى واحدة أو ثنتين في غير الأمة كانت واحدة بائنة وإن نوى ثلاثا فثلاث كذا في التبيين (الفصل الثالث في تشبيه الطلاق ووصفه،ج:١،ص:٣٧٢،ط:ماجديه)
وفيها ايضاََ: ولو قال أنت طالق ملء البيت فهي واحدة بائنة إلا أن ينوي ثلاثا كذا في الهداية. وإذا قال أنت طالق ملء الدار أو ملء الجب فإن نوى ثلاثا فثلاث وإن نوى واحدة أو ثنتين أو لم تكن له نية فهي بائنة وإذا قال أنت طالق واحدة مثل الدار أو قال بملء الدار فهي واحدة بائنة كذا في المحيط(الفصل الثالث في تشبيه الطلاق ووصفه،ج:١،ص:٣٧١،ط:ماجديه)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0