کیا اذان سے پہلے یا بعد کسی طرح کی تلاوت ، حدیث یا نعت وغیرہ کی اجازت یا ضرورت ہے یا نہیں؟ جیسے کہ فجر کی نماز کےلۓ جگانے کے لۓ مؤذن حضرات اسپیکر پر کچھ پڑھتے رہتے ہیں، کچھ لوگ اس کو خلافِ شرع کہتے ہیں، راہ نمائی فرمائیں۔
اگر اس عمل کو روزانہ کا معمول نہ بنایا جائے اور نہ ہی اسے شرعاً لازم اور زیادہ اجر و ثواب کا ذریعہ سمجھا جائے ، بلکہ محض اہلِ محلہ کی بیداری کی غرض سے اذانِ فجر کے بعد کبھی کبھار تلاوتِ قرآنِ کریم یا نعت وغیرہ پڑھ لی جائے ، تو اس میں شرعاً بھی کوئی قباحت نہیں، ورنہ اس سے احتراز لازم ہے۔
فی بدائع الصنائع : و أما التثویب المحدث فمحله صلاة الفجر أیضا و وقته ما بین الاذان و الإقامة اھ (۱/ ۱۴۸)۔
و فی الدر المختار : (و يثوب) بين الأذان و الإقامة في الكل للكل بما تعارفوه اھ (1/ 389)۔